آئین کی 14ویں ترمیم اور سپریم کورٹ کے ججز کا 6-3 سے فیصلہ
چیف جسٹس جان رابرٹس نے 3 کے مقابلے میں 6 ججز کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے "پیدائشی طور پر امریکی شہری" ہیں، خواہ ان کے والدین غیر قانونی طور پر مقیم ہوں یا عارضی طور پر وہاں آئے ہوں۔ چیف جسٹس نے اپنے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ "شہریت، ماضی میں بھی اور آج بھی، حقوق پانے کا بنیادی حق ہے تاکہ ہر شخص سیاسی برادری میں آزادانہ حصہ لے سکے۔ آئین سازوں نے یہ وعدہ اس سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر آزاد انسان سے کیا تھا اور آج ہم اس وعدے کو برقرار رکھ رہے ہیں۔"
دوسری طرف، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "انتہائی افسوسناک" قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر کہا کہ وہ اس قانون کو ختم کرنے کے لیے اب کانگریس کے ذریعے قانون سازی کا راستہ اپنائیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں کو خود بخود شہریت ملنا ملکی معیشت اور سیکیورٹی پر بوجھ ہے، لیکن عدالت نے ان کے صدارتی حکم نامے کو سراسر آئین کے خلاف قرار دیدیا۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے امریکی تاریخ کا "سب سے تباہ کن فیصلہ" قرار دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: امریکی آئین کی بالادستی اور امیگریشن کا مستقبل
اس پورے عدالتی معرکے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ قدامت پسند ججز کی اکثریت کے باوجود آئین کی بنیادی روح پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کارڈ ان کے ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لیے تو بہت بڑا تھا، لیکن قانونی طور پر اس کی بنیادیں انتہائی کمزور تھیں۔ اگر سپریم کورٹ ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیدیتی، تو امریکہ میں لاکھوں تارکینِ وطن کے بچے راتوں رات ریاستی شناخت سے محروم ہو جاتے، جس سے ایک بدترین انسانی بحران جنم لیتا۔ اب اس فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کانگریس سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم کروانا ناممکن حد تک مشکل ہوگا، کیونکہ ڈیموکریٹس اس کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بنیں گے۔
امریکی برتھ رائٹ سٹیزن شپ کا تاریخی پسِ منظر:
امریکہ میں مٹی کی بنیاد پر شہریت دینے کا یہ قانون کسی سیاسی مہم کا حصہ نہیں بلکہ اس کی ایک طویل اور مضبوط تاریخ ہے:
- 14ویں آئینی ترمیم (1868): یہ ترمیم امریکی خانہ جنگی (Civil War) کے فوری بعد پاس کی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد غلامی سے آزاد ہونے والے سیاہ فام افراد کو مستقل امریکی شہریت اور برابر کے حقوق دینا تھا۔
- امریکہ بمقابلہ وونگ کم آرک (1898): سپریم کورٹ نے اس تاریخی کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ چین سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے آئینی طور پر امریکی شہری ہیں، جس نے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو مستقل قانون بنا دیا۔
- عالمی موازنہ: امریکہ دنیا کے ان چند گنے چنے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جو اپنی سرزمیں پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو بلا تفریق شہریت دیتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک میں یہ قانون انتہائی سخت اور پیچیدہ ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ امریکی جمہوریت اور تارکینِ وطن کے تحفظ کی ایک بڑی جیت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کا اگلا سیاسی لائحہ عمل کیا ہوتا ہے اور وہ آنے والے دنوں میں کانگریس پر کتنا دباؤ ڈال پاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment