میم کوئنز، برانڈڈ بائبل اور میڈیا کمپنیوں سے کروڑوں کے ہرجانے
دستاویزات کے مطابق ٹرمپ کو ان کی فلیگ شپ کمپنی "ورلڈ لبرٹی فنانشل" کے ذریعے گورننس ٹوکنز بیچ کر 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور کمپنی "CIC Digital" نے ٹرمپ کے اپنے چہرے والے سووینئرز اور "میم کوئنز" کی فروخت سے 60 کروڑ ڈالر کمائے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس کمائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ملک کو کرپٹو کا عالمی دارالحکومت بنانے کے لیے جو پالیسیاں اپنائیں، یہ اسی کا نتیجہ ہے اور اس میں مفادات کا کوئی ٹکراؤ (Conflict of Interest) نہیں ہے۔
بات صرف کرپٹو تک محدود نہیں رہی؛ ٹرمپ نے صدارتی عہدے پر رہتے ہوئے اپنے نام کی برانڈڈ بائبل، جوتے (Sneakers) اور گھڑیاں بیچ کر بھی لاکھوں ڈالر کمائے، صرف ٹرمپ برانڈڈ گھڑیوں کی مد میں انہیں 47 لاکھ ڈالر ملے۔ اس کے علاوہ، فیس بک (Meta)، یوٹیوب، اور ایکس (X) سمیت پانچ بڑی میڈیا کمپنیوں کے خلاف قانونی کیسز اور تصفیوں (Legal Settlements) کے نتیجے میں ٹرمپ نے 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا ہرجانہ بھی وصول کیا۔
تبصرہ و تجزیہ: صدارتی طاقت اور کاروباری سلطنت کا انوکھا گٹھ جوڑ
اس پوری صورتحال پر گہرا معاشی اور سیاسی تجزیہ یہ بنتا ہے کہ امریکی تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایسے صدر ہیں جنہوں نے صدارت کے عہدے کو ایک عالمی تجارتی برانڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں ان کی حکومت دیگر ممالک کے ساتھ ٹیرف، ٹیکسوں اور فوجی امداد پر مذاکرات کر رہی تھی، دوسری طرف انہی ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور رومانیہ) میں ٹرمپ کے ہوٹلوں اور ریزورٹس کے لائسنسنگ سودوں سے ان کی جیب میں کروڑوں ڈالر جا رہے تھے۔ یہ صورتحال بظاہر اخلاقی طور پر متنازع دکھائی دیتی ہے، لیکن ٹرمپ نے ثابت کیا ہے کہ وہ روایتی سیاستدان نہیں بلکہ ایک پکے بزنس مین ہیں جو طاقت اور اقتدار کو پیسے کی دنیا میں بدلنے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں۔
امریکی وزرائے اعظم اور صدور کی کمائی کا پسِ منظر:
امریکی صدور کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا دورانِ ملازمت کمائی کا ایک خاص ریکارڈ رہا ہے، جو اس خبر کو موازنے کے لیے اہم بناتا ہے:
- باراک اوباما اور بل کلنٹن: ان صدور نے عہدہ چھوڑنے کے بعد اپنی سوانح حیات (Books) لکھنے اور عالمی اداروں میں مہنگے ترین خطابات (Speeches) دینے کے معاہدوں سے کروڑوں ڈالر کمائے، لیکن دورانِ صدارت ایسا کوئی کاروبار نہیں کیا۔
- جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن: امریکہ کے ابتدائی صدور جائیدادوں اور زمینوں کے مالک ضرور تھے، لیکن صدارتی ہاؤس میں رہتے ہوئے براہِ راست کمرشل پروڈکٹس (جوتے یا گھڑیاں) بیچنے کا تصور امریکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
- ٹرمپ کے اثاثوں کی گراوٹ: رپورٹ میں یہ کڑوا سچ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ کی تشہیر کے بعد عام عوام کو بیچے جانے والے ان کے کرپٹو ٹوکنز اور کوئنز کی قیمتیں مارکیٹ میں بری طرح کریش کر چکی ہیں، یعنی فائدہ صرف ٹرمپ کو ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ معاشی دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ دنیا میں ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل اب باقاعدہ عالمی سیاست کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اس کمائی پر کتنا ہنگامہ کھڑا کرتی ہے۔

Comments
Post a Comment