آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ اور تہران میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
سرکاری میڈیا کے مطابق، سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کے جلوسوں کا آغاز 4 جولائی سے دارالحکومت تہران سے ہو گا، جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا۔ اس دوران عراق اور مقدس شہر قم میں بھی خصوصی تعزیتی تقریبات شیڈول ہیں۔ اس انتہائی حساس اور سوگوار مدت کے دوران تہران، مشہد اور دیگر بڑے شہروں پر سول ایوی ایشن کی جانب سے عارضی فضائی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ جنازے کے اجتماعات کو کسی بھی بیرونی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری طرف، ایران اور اسرائیل کے درمیان لفظی گولہ باری اس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ گیدڑ بھبکی دی کہ ایران کے نئے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسرائیل کی "ہٹ لسٹ" پر ہیں اور ان کی موت بھی طے ہے۔ اس گستاخانہ بیان پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھتے ہوئے اسے "ریاستی دہشت گردی" کی بدترین مثال قرار دیا اور دنیا کو خبردار کیا کہ اگر ایرانی قیادت یا عوام کو کوئی بھی نقصان پہنچا، تو تہران کا جواب فوری، یکمشت اور انتہائی تباہ کن ہو گا۔
تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz): 'یہ امریکہ کا کھیل کا میدان نہیں!'
ایران اور امریکہ کے درمیان اس جنگ کا سب سے بڑا مرکز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ 'تنگہ ہرمز' بن چکی ہے، جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی ہوتی ہے۔ ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر 'خاتم الانبیاء' نے دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صرف ایران کے متعین کردہ بحری راستے پر چلنے کے پابند ہیں، ورنہ کسی بھی نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ ایرانی کمانڈرز نے کڑک دار لہجے میں امریکہ کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ "تنگہ ہرمز جارح امریکہ کے کھیلنے کا میدان نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی غیر متنازعہ خودمختاری اور قلمرو کا حصہ ہے، جس کا تحفظ ہماری ریڈ لائن ہے۔"
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد، تہران نے تنگہ ہرمز کی عملی ناکہ بندی کر دی تھی، جس کے بعد اس راستے سے گزرنے والے جہاز فوجی نشانہ بننے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگرچہ عارضی معاہدے کے تحت بحری ٹریفک جزوی طور پر بحال ہوئی تھی، لیکن گزشتہ ہفتے ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ میزائلوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ اب ایران کا ہدف یہ ہے کہ وہ طاقت کے زور پر اس عالمی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول تسلیم کروائے اور اگست کے وسط سے تمام بحری جہازوں پر بھاری ٹریفک ٹیکس (Tolls) عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
دوحہ میں خفیہ اور بالواسطہ مذاکرات: پاکستان اور قطر کا کلیدی کردار
اس شدید کشیدگی کے درمیان ایک حیران کن سفارتی پیش رفت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دیکھنے کو ملی، جہاں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ بالواسطہ اور تکنیکی مذاکرات کا دور ختم ہو گیا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ (FO) اور قطری وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان بالواسطہ ملاقاتوں میں 'اسلام آباد مفاہمت نامے' (Islamabad MoU) اور سوئٹزرلینڈ کے فیصلوں کو آگے بڑھانے پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مرکز تنگہ ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور امریکہ کی طرف سے منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کو واگذار کروانا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے دور رکھنے (Denuclearisation) پر اچھے مذاکرات ہو رہے ہیں، تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تکنیکی مذاکرات میں جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ نیوکلیئر معاملے پر بعد میں بات کی جائے گی۔ ان مذاکرات کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد ال تھانی نے شامی صدر احمد الشرع کو فون کر کے ان بالواسطہ مذاکرات کی پیش رفت اور خطے کو جنگ سے بچانے کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی مشاورت بھی کی ہے۔ اگلا دورِ مذاکرات خامنہ ای کی تدفین کے بعد دوبارہ شروع ہو گا۔
ایران کا اندرونی موقف اور جوہری سائٹس پر معائنے کا تنازع
ایران کے اندرونی سیاسی حلقوں میں اس وقت جنگ اور مذاکرات کو لے کر شدید بحث جاری ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات پر ہی مذاکرات کا راستہ چنا ہے۔ اگر لیڈر حکم نہ دیتے تو ہم کبھی امریکہ سے بات نہ کرتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے 13 میں سے 12 ارکان نے امریکہ کے ساتھ ان بالواسطہ مذاکرات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
دوسری طرف، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے چیف رافیل گروسی کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایجنسی کے انسپکٹرز جلد امریکہ اور ایران کے معاہدے کے تحت ان جوہری سائٹس کا دورہ کریں گے جنہیں امریکہ نے جنگ کے دوران بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پارلیمنٹ اور سیکیورٹی کونسل کی منظوری کے تحت امریکہ کی بمباری کا شکار ہونے والی نطنز، فردو اور اصفہان کی نیوکلیئر سائٹس پر کسی بھی بیرونی انسپکٹر کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عالمی انسپکٹرز کو صرف بوشہر پاور پلانٹ اور تہران کے ری ایکٹر تک ہی محدود رسائی حاصل ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: گریٹ گیم، معاشی ناکہ بندی اور مشرقِ وسطیٰ کا نیا نقشہ
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی بڑی جنگ کے دھانے پر ہے جہاں کوئی بھی ایک چھوٹی سی غلطی عالمی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں ایران پر براہِ راست جنگ مسلط کرنے کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو جڑ سے اکھاڑنا اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا تھا، لیکن ایران نے اس کا جواب تنگہ ہرمز کو بلاک کر کے دیا، جس سے عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ ٹرمپ کے حالیہ نرم بیان کے بعد تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر ضرور آئی ہیں، لیکن زمینی حقائق بدستور کشیدہ ہیں۔
دوسری اہم بات بحرین میں ہونے والا امریکی قیادت میں 12 ملکی اجلاس ہے، جس کا مقصد ہرمز کو امریکی سینٹکام (CENTCOM) کے کمانڈ کے تحت لانا تھا، جسے ایرانی ڈپٹی وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ خطے کا امن امریکی فوجی چھتری کے نیچے نہیں بلکہ امریکی انخلاء اور خودمختاری کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان اور قطر کا اس گریٹ گیم میں ثالث بننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم دنیا اب واشنگٹن اور تہران کو ایک ایسی کھلی جنگ سے روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے جو اگر بھڑک اٹھی تو اس کی لپیٹ میں پورا ایشیا اور یورپ آ جائیں گے۔ اب اصل امتحان 9 جولائی کے بعد شروع ہونے والے اگلے مذاکرات کا ہو گا، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے مستقل امن یا مکمل تباہی کا فیصلہ ہو گا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگی تاریخ کا سابقہ ریکارڈ:
تہران اور واشنگٹن کے مابین موجودہ مسلح تصادم اور بحری ناکہ بندی کی جڑیں ماضی کے ان اہم تاریخی موڑ سے ملتی ہیں:
- ایرانی انقلاب اور 1980 کی ٹینکر جنگ (Tanker War): ایران عراق جنگ کے دوران بھی تنگہ ہرمز میں دونوں طرف سے کمرشل اور تیل کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد امریکی بحریہ نے براہِ راست مداخلت کر کے آپریشن پرائینگ مینٹس کے ذریعے ایرانی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا تھا۔
- ٹرمپ کی 'میکسمم پریشر' پالیسی اور برجام (JCPOA) کا خاتمہ: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی تھیں، جس نے اس موجودہ جنگ کا بنیادی بیج بویا تھا۔
- جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت (2020): بغداد ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں ایران کے سب سے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک براہِ راست جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے، اور تہران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے ایران کو تاریخ کے سب سے بڑے بحران میں دھکیل دیا ہے، لیکن تہران کا جھکنے سے انکار اور تنگہ ہرمز پر سخت کنٹرول یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ سپر پاور کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے۔ دنیا اب سہم کر خامنہ ای کے جنازے اور اس کے بعد دوحہ میں ہونے والے فیصلوں کا انتظار کر رہی ہے۔

Comments
Post a Comment