بھروسے کا قتل: قریبی تعلقات کا غلط استعمال
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان جرائم کے مرتکب افراد زیادہ تر وہ ہیں جو اپنے متاثرین کے ساتھ طویل عرصے سے قائم، بھروسہ مند اور قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بالکل فرانس کے ہائی پروفائل 'گِزل پیلیکوٹ' (Gisèle Pelicot) کیس کی طرح، جہاں شوہر ہی اپنی بیوی کو نشہ دے کر درجنوں اجنبیوں کے حوالے کر دیتا تھا۔ NCA کے ڈپٹی ڈائریکٹر نائجل لیری کا کہنا ہے کہ "ہم نے ایک ایسا نیٹ ورک دریافت کیا ہے جس کے ارکان ہر براعظم کے درجنوں ممالک میں موجود ہیں۔" آن لائن فورمز پر گرافک تفصیلات کے ساتھ ادویات کے استعمال، متاثرین کو قابو کرنے اور جرائم کو چھپانے کی تکنیکیں شیئر کی جاتی ہیں۔
متاثرین کو علم بھی نہیں! حکام کی اپیل
یہ انکشاف سب سے زیادہ خوفناک ہے کہ بہت سے متاثرین کو شاید یہ علم بھی نہ ہو کہ ان کے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے۔ چونکہ انہیں نشہ دے کر بے ہوش کیا جاتا ہے، اس لیے وہ پولیس کے رابطہ کرنے یا ڈیجیٹل ثبوت دیکھنے تک اس حقیقت سے بے خبر رہ سکتے ہیں۔ حکام نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو بھی اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی مشکوک صورتحال پر شبہ ہو، تو بغیر کسی ثبوت یا واضح یادداشت کے بھی پولیس سے رجوع کریں تاکہ انہیں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ماضی کے اہم واقعات اور تحقیقات کا ریکارڈ:
اس طرح کے جرائم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے خلاف اب عالمی سطح پر کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں:
- گِزل پیلیکوٹ کیس (فرانس): اس کیس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جہاں ایک خاتون کو 10 سال تک نشہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ دسمبر 2024 میں 50 سے زائد ملزمان کو سزا سنائی گئی۔
- یووروپول کا آپریشن: حال ہی میں یورپی پولیس (Europol) نے 7 ممالک کے ساتھ مل کر ایک بڑے آپریشن میں 156 متاثرین اور ملزمان کی نشاندہی کی، جسے اس نوعیت کے جرائم کے خلاف ایک غیر معمولی پیشرفت قرار دیا گیا۔
- آن لائن فورمز کی نگرانی: NCA نے گزشتہ اکتوبر سے اب تک 270 سے زائد افراد کی نشاندہی کی ہے اور 210 انٹیلیجنس پیکجز دنیا بھر کے تفتیشی اداروں کو بھجوائے ہیں، جن میں سے 90 فیصد بیرونِ ملک تھے۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سوبھن بلیک کے مطابق، یہ 25 سالہ کیریئر میں دیکھا گیا سب سے گھناؤنا جرم ہے۔ ٹیکنالوجی نے اس ظلم کا دائرہ تو بڑھا دیا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ہر ڈیجیٹل ٹول کا استعمال کر کے ان درندوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment