عالمی برادری کا ریڈ الرٹ اور غیر ملکی طاقتوں کا شرمناک کردار
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جنیوا میں ہنگامی اجلاس کے دوران دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "الابیض میں انسانی حقوق کی بدترین تباہی جنم لے رہی ہے اور یہ کوئی ڈرل نہیں بلکہ ریڈ الرٹ ہے جس پر عالمی طاقتوں کو فوری ایکشن لینا ہو گا"۔ ییل ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کی سیٹلائٹ رپورٹ میں بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ بجلی گھروں، پانی کی تنصیبات اور عوامی مارکیٹوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ زندگی مفلوج کی جا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ جب مواصلاتی نظام معطل ہونے پر لوگ سٹار لنک (Starlink) انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو ان پر بھی ڈرون گرا دیے جاتے ہیں۔
اس وحشیانہ جنگ کے پیچھے بیرونی طاقتوں کے شرمناک کردار کا بھی پردہ چاک ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے اتحاد نے عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں ایک باقاعدہ درخواست دائر کی ہے جس میں متحدہ عرب امارات (UAE)، ایران، ترکی اور مصر کے اعلیٰ حکام کو اس نسل کشی اور جنگی جرائم میں معاونت کا مجرم نامزد کیا گیا ہے۔ ان ممالک پر سوڈان میں باغیوں اور لڑنے والے گروپوں کو جدید ترین ڈرون، ہتھیار، مالی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: پراکسی وار کی آگ اور عالمی ضمیر کی مجرمانہ خاموشی
اس پوری خونریزی پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ سوڈان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مظلوم خطہ بن چکا ہے جہاں بیرونی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے معصوم سوڈانیوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہیں۔ سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری کی اقتدار کی ہوس نے 5 لاکھ کی آبادی والے خوبصورت شہر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ ایک طرف یوکرین اور دیگر خطوں پر فوری ایکشن لینے والی مغربی دنیا سوڈان میں بچوں اور ہسپتالوں پر گرنے والے ڈرونز پر محض "بیانات" تک محدود ہے۔ جب تک ہتھیاروں کی غیر قانونی سپلائی کرنے والے ممالک پر سخت عالمی پابندیاں نہیں لگائی جاتیں اور شہریوں کو نکلنے کے لیے محفوظ راستے نہیں دیے جاتے، تب تک یہ پراکسی وار لاکھوں مزید انسانوں کو نگل جائے گی۔

Comments
Post a Comment