سوڈان میں ڈرون حملوں کی قیامت! الابیض شہر محاصرے میں، اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری

A heavy smoke rising from damaged buildings representing the ongoing drone conflict in Sudan
سوڈان کے سیکیورٹی اور انسانی بحران نے اس وقت ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جب سوڈانی فوج (SAF) اور پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اسٹریٹیجک شہر الابیض (El Obeid) پر قبضے کے لیے خونی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق، شہر پر حالیہ دنوں میں تاریخ کے بدترین ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں اسکولوں، اسپتالوں اور فیول اسٹیشنوں کو نشانہ بنا کر 20 سے زائد طلبہ اور معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق، صرف جون کے مہینے میں 15 ہولناک ڈرون حملوں میں 45 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

عالمی برادری کا ریڈ الرٹ اور غیر ملکی طاقتوں کا شرمناک کردار

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جنیوا میں ہنگامی اجلاس کے دوران دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "الابیض میں انسانی حقوق کی بدترین تباہی جنم لے رہی ہے اور یہ کوئی ڈرل نہیں بلکہ ریڈ الرٹ ہے جس پر عالمی طاقتوں کو فوری ایکشن لینا ہو گا"۔ ییل ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کی سیٹلائٹ رپورٹ میں بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ بجلی گھروں، پانی کی تنصیبات اور عوامی مارکیٹوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ زندگی مفلوج کی جا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ جب مواصلاتی نظام معطل ہونے پر لوگ سٹار لنک (Starlink) انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو ان پر بھی ڈرون گرا دیے جاتے ہیں۔

اس وحشیانہ جنگ کے پیچھے بیرونی طاقتوں کے شرمناک کردار کا بھی پردہ چاک ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے اتحاد نے عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں ایک باقاعدہ درخواست دائر کی ہے جس میں متحدہ عرب امارات (UAE)، ایران، ترکی اور مصر کے اعلیٰ حکام کو اس نسل کشی اور جنگی جرائم میں معاونت کا مجرم نامزد کیا گیا ہے۔ ان ممالک پر سوڈان میں باغیوں اور لڑنے والے گروپوں کو جدید ترین ڈرون، ہتھیار، مالی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: پراکسی وار کی آگ اور عالمی ضمیر کی مجرمانہ خاموشی

اس پوری خونریزی پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ سوڈان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مظلوم خطہ بن چکا ہے جہاں بیرونی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے معصوم سوڈانیوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہیں۔ سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری کی اقتدار کی ہوس نے 5 لاکھ کی آبادی والے خوبصورت شہر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ ایک طرف یوکرین اور دیگر خطوں پر فوری ایکشن لینے والی مغربی دنیا سوڈان میں بچوں اور ہسپتالوں پر گرنے والے ڈرونز پر محض "بیانات" تک محدود ہے۔ جب تک ہتھیاروں کی غیر قانونی سپلائی کرنے والے ممالک پر سخت عالمی پابندیاں نہیں لگائی جاتیں اور شہریوں کو نکلنے کے لیے محفوظ راستے نہیں دیے جاتے، تب تک یہ پراکسی وار لاکھوں مزید انسانوں کو نگل جائے گی۔


⬇️ Click to Read this Sudan Crisis Story in English

Sudan Red Alert: Besieged El Obeid Pummelled By Lethal Drone Attacks On Infrastructure


EL OBEID: A catastrophic humanitarian crisis is unfolding in the Sudanese city of El Obeid as it faces an unprecedented barrage of drone strikes from the paramilitary Rapid Support Forces (RSF). Aid workers report that the latest strikes targeted schools, hospitals, and fuel stations, killing over 20 civilians, including young students. The UN human rights office confirmed at least 15 drone attacks recently, resulting in mass casualties.

UN Sounds Alarm As External Powers Sued At ICC

UN High Commissioner for Human Rights Volker Türk issued a global "red alert" to world leaders, urging immediate diplomatic intervention to prevent a repeat of the El Fasher genocide. Amidst the complete blackout of utilities, satellite data confirmed deliberate destruction of life-sustaining civilian infrastructure. Concurrently, a coalition of human rights organizations has formally referred high-level officials from the UAE, Iran, Turkey, and Egypt to the International Criminal Court (ICC) for aiding and abetting these atrocity crimes through illicit arms shipments and logistics.

Comments