بھارت کو بڑا جھٹکا! بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کا پہلا سرکاری دورہ چین، اہم دفاعی و معاشی معاہدے طے

Strategic map of South Asia highlighting the border relations between Bangladesh, India, and China
بنگلہ دیش کی نو منتخب حکومت نے ڈگمگاتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے روایتی حریف بھارت کے بجائے چین کی طرف باقاعدہ دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے کے لیے ملائیشیا اور چین کا انتخاب کر کے نئی دہلی کو ایک واضح سفارتی پیغام دیا ہے۔ عام طور پر بنگلہ دیش کے نئے لیڈرز سب سے پہلے بھارت کا رخ کرتے تھے، لیکن طارق رحمان کے اس قدم کو خطے میں تزویراتی ترجیحات کی ایک نئی اور بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران چین کے ساتھ دریائے تیستا (Teesta River) کے انتظام اور مونگلا پورٹ کے قریب خصوصی اقتصادی زون بنانے کے اہم معاہدوں نے بھارت کے سیکیورٹی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

چکنز نیک (Chicken's Neck) کے قریب چینی انٹری اور بھارتی خدشات

دریائے تیستا کے منصوبے میں چین کی شمولیت بھارت کے لیے ایک انتہائی حساس سیکیورٹی کا مسئلہ بن گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ بھارت کی اس 22 کلومیٹر چوڑی پٹی کے انتہائی قریب ہے جسے "سلی گوڑی کوریڈور" یا "چکنز نیک" کہا جاتا ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو اس کی سات شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتا ہے۔ سابق انڈین فارن سیکرٹری شیام سارن کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی سرحد کے اتنے قریب چین کی کسی بھی سرگرمی کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ تاہم بنگلہ دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے پہلے بھارت کو اس پروجیکٹ کی دعوت دی تھی، لیکن نئی دہلی نے فیصلہ کرنے میں بہت زیادہ وقت لگا دیا، جبکہ چین کے پاس اس پیمانے کے منصوبوں کے لیے بہترین مہارت اور مالی وسائل موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش کے عوامی انقلاب کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ فرار ہو کر بھارت میں پناہ گزین ہو گئیں۔ بنگلہ دیشی عدالتوں کی جانب سے شیخ حسینہ کو مظاہرین پر تشدد اور انسانیت سوز جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور ڈھاکہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے شیخ حسینہ کو پناہ دینے، اور بھارتی بارڈر فورس کی جانب سے بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو زبردستی بنگلہ دیش دھکیلنے کی کوششوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر رکھا ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں دونوں اطراف نے بس سروسز اور فرینڈ شپ پائپ لائن کے ذریعے تعلقات کو بحال کرنے کی کچھ کوششیں کی ہیں، لیکن عوامی سطح پر بھارت مخالف جذبات بدستور عروج پر ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن اور چین کی خاموش پیشقدمی

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بنگلہ دیش اب بھارت کی یکطرفہ سفارتی اجارہ داری سے نکل کر آزادانہ خارجہ پالیسی اپنا رہا ہے۔ چین اس وقت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے، جو ڈھاکہ کی 70 فیصد سے زائد فوجی ضروریات پوری کرتا ہے، اور بنگلہ دیش پر چین کا 6 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ بھی ہے۔ چین نے بنگلہ دیش کو "چین-میانمار-بنگلہ دیش اقتصادی راہداری" میں شامل ہونے کی بھی پیشکش کی ہے۔ بھارت طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کو اپنے زیرِ اثر علاقہ سمجھتا رہا ہے، لیکن چین نے مالدیپ، سری لنکا اور اب بنگلہ دیش میں اپنے مضبوط معاشی قدم جما کر بھارت کو خطے میں تنہا کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم طارق رحمان کے لیے دو بڑے ایشیائی طاقتوں کے درمیان یہ سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔


⬇️ Click to Read this Geopolitical Story in English

Geopolitical Shift: Bangladesh Courts Beijing as Ties with India Enter Delicate Phase


DHAKA: In a significant departure from historic diplomatic norms, Bangladesh's newly elected Prime Minister Tarique Rahman chose China and Malaysia for his first official overseas visit, bypassing New Delhi. Seeking major Chinese financial investments to revive a stuttering economy, Dhaka signed pivotal deals with Beijing, including a strategic technical feasibility study to manage the disputed Teesta River and a new economic zone near Mongla port.

Indian Security Concerns Over the Siliguri Corridor

The growing Chinese involvement near the vital Siliguri Corridor—India's 22km strategic "Chicken's Neck" linking its mainland to the northeastern states—has triggered severe alarm bells in New Delhi. Tensions between Dhaka and Delhi remain complex following the August 2024 mass uprising that ousted Sheikh Hasina, who currently resides in India facing a death sentence in absentia. While trade and transport links have partially resumed, China's positioning as Bangladesh's primary defense supplier, accounting for 70% of its arms imports, cements a massive shift in the South Arabian sphere of influence.

Comments