چکنز نیک (Chicken's Neck) کے قریب چینی انٹری اور بھارتی خدشات
دریائے تیستا کے منصوبے میں چین کی شمولیت بھارت کے لیے ایک انتہائی حساس سیکیورٹی کا مسئلہ بن گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ بھارت کی اس 22 کلومیٹر چوڑی پٹی کے انتہائی قریب ہے جسے "سلی گوڑی کوریڈور" یا "چکنز نیک" کہا جاتا ہے، جو بھارت کے مرکزی حصے کو اس کی سات شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتا ہے۔ سابق انڈین فارن سیکرٹری شیام سارن کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی سرحد کے اتنے قریب چین کی کسی بھی سرگرمی کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ تاہم بنگلہ دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے پہلے بھارت کو اس پروجیکٹ کی دعوت دی تھی، لیکن نئی دہلی نے فیصلہ کرنے میں بہت زیادہ وقت لگا دیا، جبکہ چین کے پاس اس پیمانے کے منصوبوں کے لیے بہترین مہارت اور مالی وسائل موجود ہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش کے عوامی انقلاب کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ فرار ہو کر بھارت میں پناہ گزین ہو گئیں۔ بنگلہ دیشی عدالتوں کی جانب سے شیخ حسینہ کو مظاہرین پر تشدد اور انسانیت سوز جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور ڈھاکہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے شیخ حسینہ کو پناہ دینے، اور بھارتی بارڈر فورس کی جانب سے بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو زبردستی بنگلہ دیش دھکیلنے کی کوششوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر رکھا ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں دونوں اطراف نے بس سروسز اور فرینڈ شپ پائپ لائن کے ذریعے تعلقات کو بحال کرنے کی کچھ کوششیں کی ہیں، لیکن عوامی سطح پر بھارت مخالف جذبات بدستور عروج پر ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن اور چین کی خاموش پیشقدمی
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ بنگلہ دیش اب بھارت کی یکطرفہ سفارتی اجارہ داری سے نکل کر آزادانہ خارجہ پالیسی اپنا رہا ہے۔ چین اس وقت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے، جو ڈھاکہ کی 70 فیصد سے زائد فوجی ضروریات پوری کرتا ہے، اور بنگلہ دیش پر چین کا 6 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ بھی ہے۔ چین نے بنگلہ دیش کو "چین-میانمار-بنگلہ دیش اقتصادی راہداری" میں شامل ہونے کی بھی پیشکش کی ہے۔ بھارت طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کو اپنے زیرِ اثر علاقہ سمجھتا رہا ہے، لیکن چین نے مالدیپ، سری لنکا اور اب بنگلہ دیش میں اپنے مضبوط معاشی قدم جما کر بھارت کو خطے میں تنہا کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم طارق رحمان کے لیے دو بڑے ایشیائی طاقتوں کے درمیان یہ سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔

Comments
Post a Comment