آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور صدر ٹرمپ کا بڑا اعلان
یہ خونی معرکہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں لاکھوں کے ہجوم کی موجودگی میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی گئی، جو گزشتہ ماہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ تدفین کے دوران عوامی سمندر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انتقام کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ 17 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ اب مکمل طور پر "ختم" ہو چکا ہے اور وہ اب ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ اس کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ امریکی جارحیت کا جواب گالی سے نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں شجاعت اور عملی کارروائی سے دیں گے۔
اس جنگ کا سب سے بڑا جھٹکا عالمی معیشت کو لگا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والے تجارتی اور تیل کے بحری جہازوں کی تعداد روزانہ 130 سے گر کر اب سنگل ڈیجٹ (محض چند جہازوں) تک رہ گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی، امریکی دھمکیاں یہاں کام نہیں آئیں گی۔
تبصرہ و تجزیہ: مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کا ٹکراؤ اور معاشی تباہی
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ امریکہ اور ایران کا یہ حالیہ ٹکراؤ صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کی توانائی اور تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے سفارتی راستے بند کرنا اور معاہدے کو ختم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی فوجی طاقت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران کے اندر عوامی جذبات اس وقت عروج پر ہیں، اور کویت و بحرین جیسے خلیجی ممالک پر ایرانی حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہی رکے گی، جس کا خمیازہ پوری دنیا کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

Comments
Post a Comment