امریکہ اور ایران میں خوفناک جنگ جاری! خامنہ ای کی تدفین کے دوران بمباری، جنگ بندی معاہدہ ختم

Military explosions and naval deployment representing the escalating war between the US and Iran
مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید ترین جنگ کی لپیٹ میں ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان میزائلوں اور فضائی حملوں کا ہولناک تبادلہ جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) نے ایرانی ساحلی پٹی پر ائیر ڈیفنس سسٹمز اور لاجسٹک انفراسٹرکچر سمیت 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف، ایرانی حکام نے ان حملوں کو "سنگین جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی میں کویت، بحرین، اردن، قطر اور عراق میں امریکی اثاثوں اور فوجی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق ان تازہ حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہو چکے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور صدر ٹرمپ کا بڑا اعلان

یہ خونی معرکہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں لاکھوں کے ہجوم کی موجودگی میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی گئی، جو گزشتہ ماہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ تدفین کے دوران عوامی سمندر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انتقام کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ 17 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ اب مکمل طور پر "ختم" ہو چکا ہے اور وہ اب ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ اس کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ امریکی جارحیت کا جواب گالی سے نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں شجاعت اور عملی کارروائی سے دیں گے۔

اس جنگ کا سب سے بڑا جھٹکا عالمی معیشت کو لگا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والے تجارتی اور تیل کے بحری جہازوں کی تعداد روزانہ 130 سے گر کر اب سنگل ڈیجٹ (محض چند جہازوں) تک رہ گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی، امریکی دھمکیاں یہاں کام نہیں آئیں گی۔

تبصرہ و تجزیہ: مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کا ٹکراؤ اور معاشی تباہی

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ امریکہ اور ایران کا یہ حالیہ ٹکراؤ صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کی توانائی اور تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے سفارتی راستے بند کرنا اور معاہدے کو ختم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی فوجی طاقت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران کے اندر عوامی جذبات اس وقت عروج پر ہیں، اور کویت و بحرین جیسے خلیجی ممالک پر ایرانی حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہی رکے گی، جس کا خمیازہ پوری دنیا کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔


⬇️ Click to Read this War Update in English

US-Iran War Escalates: Trump Declares Ceasefire Deal 'Over' As Khamenei is Buried


TEHRAN/WASHINGTON: Hostilities between the US and Iran have reached a critical peak as both nations traded heavy strikes following the burial of Iran's late supreme leader, Ayatollah Ali Khamenei, in Mashhad. US Central Command confirmed hitting 90 military targets along the Iranian coastline, including locations near the Bushehr nuclear power plant. In retaliation, Tehran launched extensive missile and drone attacks targeting US military assets in Kuwait, Bahrain, Jordan, and Iraq.

Strait of Hormuz Shipping Drops Dramatically

Amid the escalation, US President Donald Trump announced that the June 17 ceasefire agreement is now officially dead, calling further negotiations a waste of time. Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi responded by stating Iran would answer with valor on the battlefield. Meanwhile, maritime observers reported a catastrophic drop in shipping volume through the vital Strait of Hormuz, threatening global oil supplies and international trade infrastructure.

Comments