این ایف سی پر ورلڈ بینک کا بڑا دھماکہ! صوبوں کے حصوں میں کٹوتی اور سرکاری ملازمتوں کا کچا چٹھا عیاں

World Bank building and Pakistan currency representing fiscal reforms and NFC award discussions
عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک نے پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے اور وفاق و صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے (NFC Award) پر ایک انتہائی چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں وفاق کے مالیاتی بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے این ایف سی فارمولے پر نظرِثانی کی سفارش کی گئی ہے اور تجویز دی گئی ہے کہ قومی نوعیت کی 7 بڑی عوامی خدمات اور منصوبوں کے اخراجات صوبوں کے حصے (Divisible Pool) سے کاٹے جائیں۔ ورلڈ بینک نے وفاق اور صوبوں دونوں کی فضول خرچیوں اور ناقص مالیاتی پالیسیوں کو ملکی قرضوں میں اضافے کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔

806 ارب روپے کی گرانٹ اور صوبوں کا دہرہ معیار

رپورٹ کے مطابق، وفاق کے اخراجات پورٹ کرنے کے لیے صرف دو بڑے صوبوں نے اپنے بجٹ میں رقم مختص کی ہے، جس میں پنجاب نے 546 ارب روپے اور سندھ نے 260 ارب روپے دیے ہیں۔ یہ مجموعی طور پر 806 ارب روپے بنتے ہیں جو کہ وفاقی حکومت کی توقعات سے 22 فیصد کم ہیں، کیونکہ خیبر پختونخوا (KP) اور بلوچستان نے اپنے بجٹ میں اس مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں صوبوں نے قومی سلامتی، بڑے ڈیموں اور فیول بحران سے نمٹنے کے لیے وفاق کو 1 ہزار 35 ارب روپے کی گرانٹس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جسے ورلڈ بینک نے ایک عارضی حل قرار دیا ہے۔

ورلڈ بینک نے وفاقی حکومت کی نااہلی پر سخت وار کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے، وفاق اب بھی ان پر اربوں روپے ضائع کر رہا ہے۔ 2009 سے 2024 کے درمیان وفاق کے غیر منتقلی شعبوں میں سرکاری ملازمین کی تعداد میں 85 فیصد (تقریباً 1 لاکھ 91 ہزار ملازمین) کا بھاری اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ بارڈر سیکیورٹی فورسز کو اندرونی پولیسنگ کے لیے استعمال کرنا ہے، جبکہ پولیسنگ خالصتاً صوبائی معاملہ ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: سرکاری نوکریوں کی ریوڑیاں اور غریب عوام کا خون

اس پوری رپورٹ پر کڑا تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ پاکستان کا پورا انتظامی ڈھانچہ معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے صرف "سیاسی رشوت" اور نوکریوں کی ریوڑیاں بانٹنے پر چل رہا ہے۔ صوبوں کو 18ویں ترمیم کے بعد فنڈز تو زیادہ ملے، لیکن انہوں نے وہ پیسہ تعلیم، صحت یا ترقیاتی منصوبوں پر لگانے کے بجائے 80 فیصد سے زائد جاری اخراجات (Recurrent Costs) یعنی بیوروکریسی کی تنخواہوں، پینشنز اور نئی سرکاری اسامیاں پیدا کرنے پر اڑا دیا۔ 2009 سے 2023 کے دوران صوبوں میں تنخواہوں پر اخراجات میں 250 فیصد اور پینشنز میں 330 فیصد کا لرزہ خیز اضافہ ہوا۔ جب تک وفاق اپنے دائرہ اختیار سے باہر کے محکمے بند نہیں کرتا اور صوبے اپنی شاہ خرچیاں ختم نہیں کرتے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط کا سارا بوجھ غریب عوام ہی ٹیکسوں کی شکل میں اٹھاتے رہیں گے۔

پاکستان کے مالیاتی بحران اور این ایف سی کا پسِ منظر:

ملک میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تنازعات اور اخراجات کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے:

  • ساتواں این ایف سی ایوارڈ (2010): اس تاریخی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا تھا، جس کا مقصد صوبوں کو خود مختار بنانا تھا، لیکن صوبے ٹیکس نیٹ بڑھانے میں بری طرح ناکام رہے۔
  • 18ویں آئینی ترمیم (2010): صحت، تعلیم، اور سماجی بہبود جیسے 17 سے زائد بڑے شعبے صوبوں کو منتقل کیے گئے، لیکن وفاق نے ان شعبوں کے اپنے متوازی ادارے (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) اب تک بند نہیں کیے۔
  • قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم: وفاق کے پاس این ایف سی کی تقسیم کے بعد دفاع اور قرضوں کی سود ادائیگی کے لیے بھی پیسے نہیں بچتے، جس کی وجہ سے ہر سال بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید بیرونی قرضے لیے جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک نے اب صاف کہہ دیا ہے کہ این ایف سی کے پیچیدہ سیاسی فارمولے کو ختم کر کے صوبوں کی کارکردگی اور ضرورت کی بنیاد پر فنڈز دینے کا شفاف نظام لایا جائے، ورنہ پاکستان کبھی بھی اس اسٹرکچرل خسارے کے دلدل سے باہر نہیں نکل پائے گا۔


⬇️ Click to Read this Economic Report in English

World Bank Report: Review NFC Formula and Cut Provincial Shares to Fix Deficit


ISLAMABAD: The World Bank has released a comprehensive report on fiscal federalism, strongly recommending a permanent review of Pakistan's National Finance Commission (NFC) formula. The lender suggested function-specific deductions from the provincial divisible pool to share the heavy burden of federal expenditures on 7 national public goods, including national transport infrastructure, debt servicing, and strategic water infrastructure.

Surge in Government Jobs and Administrative Waste

The report criticized both tiers of government, highlighting that the federal government expanded non-military security personnel by 85% between 2009 and 2024 in devolved sectors, while provinces absorbed 80% of their incremental resources on recurrent costs like bloating salaries and pensions (surging by 250% and 330% respectively). Only Punjab and Sindh allocated Rs806 billion in reverse grants for the Center, falling 22% short of expectations as KP and Balochistan allocated zero funds in their budgets.

Comments