امریکہ اور ایران کا ہولناک ٹکراؤ! ایران کی خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش

Military aircraft and naval warships deployed near the strategic Strait of Hormuz amid rising tensions
مڈل ایسٹ اس وقت بارود کے ڈھیر پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بلا تعطل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار کے مطابق، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے اطراف میں ایرانی میزائل اور فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد بمباریاں کی ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار چھوٹی کشتیوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین راتوں کے دوران ایران کی صلاحیت کو مفلوج کرنے کے لیے 300 سے زائد حملے کیے گئے، جن میں سے 140 حملے صرف ہفتے کے روز کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے صوبہ کرمان، لورستان اور خوزستان کے متعدد شہروں بشمول آبادان اور ماہشہر میں فوجی تنصیبات اور کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہوئے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کا کرشنگ جواب: اردن، کویت اور قطر کے امریکی اڈے نشانہ بن گئے

امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود بردار ڈرونز سے سنسنی خیز جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ایران نے اردن میں قائم امریکی 'پرنس حسن ایئر بیس' پر متعدد بیلسٹک میزائل داغ کر وہاں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور مہلک MQ-9 ڈرون ہینگرز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کویت میں امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم، ایک ریڈار سائٹ اور گولہ بارود کے ڈپو کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ قطر میں قائم مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے 'العدید ایئر بیس' کے فائٹر جیٹ مینٹیننس سینٹر پر بھی میزائل داغے گئے ہیں۔ اومان کی بندرگاہ دقم (Duqm) پر امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ اور ری فیولنگ پلیٹ فارمز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایرانی حملوں کے باعث پورے خلیج میں ہنگامی صورتحال نافذ ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روکا ہے۔ بحرین میں رات بھر تین مرتبہ فضائی حملے کے سائرن گونجتے رہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ قطر میں بھی سیکیورٹی الرٹ ہائی کر دیا گیا ہے جہاں گرنے والے ملبے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ اردن کی سرزمین پر بھی تین ایرانی میزائل آ کر گرے ہیں۔ کویت نے ایرانی حملوں کو اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور خطے کے امن کے لیے ایک خطرناک خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور تجارتی جہازوں پر حملے

ایران نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی مداخلت کے خاتمے تک دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو تمام تر تجارتی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی نیوی نے سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک تجارتی کنٹینر جہاز 'جی ایف ایس گلیکسی' پر فائرنگ کر کے اسے روک دیا، جس کے بعد جہاز کے انجن روم میں ہولناک آگ لگ گئی اور عملے کو لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑنا پڑا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس جہاز پر 11 بھارتی شہری سوار تھے جن میں سے 10 کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ ایک بھارتی تاحال لاپتہ ہے۔ نئی دہلی نے تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایک دوسرے امریکی بحری جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ "یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، امریکہ اپنا وعدہ پورا کرے یا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہے۔"

تبصرہ و تجزیہ: عالمی معیشت کا بحران اور امریکی الیکشن پر اثرات

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ یہ جنگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت کو نگلنے جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز وہ نازک ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل اور ایل این جی (LNG) کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے لحاظ سے انتہائی حساس اور سیاسی طور پر نقصان دہ ہے، کیونکہ امریکہ میں گیسولین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ووٹرز کو ناراض کر سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی ٹریفک کے لیے کھلا ہے اور سینٹکام آزادیِ نیویگیشن کے لیے تیار ہے، لیکن زمین پر جنگی شعلے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سخت بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اب کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔


⬇️ Click to Read this War Update in English

Strait of Hormuz Crisis: US Strikes Iran as IRGC Retaliates Against US Bases in Gulf


WASHINGTON/TEHRAN: The military conflict between the United States and Iran has escalated drastically. Following intense US airstrikes targeting Iranian missile and air defense systems around the strategic Strait of Hormuz, Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) launched a massive waves of ballistic missiles and explosive drones at key US military infrastructure across the Gulf, including Prince Hassan Air Base in Jordan, Al Udeid Air Base in Qatar, and Patriot missile facilities in Kuwait.

Strait of Hormuz Closed Amid Commercial Ship Attacks

Tehran announced the official closure of the Strait of Hormuz until further notice, warning against foreign intervention. A Cyprus-flagged container ship, GFS Galaxy, was struck and disabled by Iranian forces off Oman, leaving one Indian crew member missing and forcing others to abandon the vessel due to a severe engine room fire. While US President Donald Trump claimed the international waterway remains open for commerce, the dramatic spike in energy prices has already fueled global inflation concerns ahead of the US congressional elections.

Comments