پاسدارانِ انقلاب کا کرشنگ جواب: اردن، کویت اور قطر کے امریکی اڈے نشانہ بن گئے
امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود بردار ڈرونز سے سنسنی خیز جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ایران نے اردن میں قائم امریکی 'پرنس حسن ایئر بیس' پر متعدد بیلسٹک میزائل داغ کر وہاں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور مہلک MQ-9 ڈرون ہینگرز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کویت میں امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم، ایک ریڈار سائٹ اور گولہ بارود کے ڈپو کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ قطر میں قائم مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے 'العدید ایئر بیس' کے فائٹر جیٹ مینٹیننس سینٹر پر بھی میزائل داغے گئے ہیں۔ اومان کی بندرگاہ دقم (Duqm) پر امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ اور ری فیولنگ پلیٹ فارمز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
💢 Three people, including a child, were injured in Qatar due to falling debris from interception operations following Iranian attacks, the Qatari Interior Ministry said
— Anadolu English (@anadoluagency) July 12, 2026
➡️ Earlier, Iran said it launched attacks on US military sites in Bahrain, Kuwait, Jordan, Qatar and Oman… pic.twitter.com/IxFalL2Vy0
ایرانی حملوں کے باعث پورے خلیج میں ہنگامی صورتحال نافذ ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روکا ہے۔ بحرین میں رات بھر تین مرتبہ فضائی حملے کے سائرن گونجتے رہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ قطر میں بھی سیکیورٹی الرٹ ہائی کر دیا گیا ہے جہاں گرنے والے ملبے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ اردن کی سرزمین پر بھی تین ایرانی میزائل آ کر گرے ہیں۔ کویت نے ایرانی حملوں کو اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور خطے کے امن کے لیے ایک خطرناک خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور تجارتی جہازوں پر حملے
ایران نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی مداخلت کے خاتمے تک دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو تمام تر تجارتی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی نیوی نے سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک تجارتی کنٹینر جہاز 'جی ایف ایس گلیکسی' پر فائرنگ کر کے اسے روک دیا، جس کے بعد جہاز کے انجن روم میں ہولناک آگ لگ گئی اور عملے کو لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑنا پڑا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس جہاز پر 11 بھارتی شہری سوار تھے جن میں سے 10 کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ ایک بھارتی تاحال لاپتہ ہے۔ نئی دہلی نے تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایک دوسرے امریکی بحری جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ "یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، امریکہ اپنا وعدہ پورا کرے یا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہے۔"
تبصرہ و تجزیہ: عالمی معیشت کا بحران اور امریکی الیکشن پر اثرات
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ یہ جنگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت کو نگلنے جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز وہ نازک ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل اور ایل این جی (LNG) کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے لحاظ سے انتہائی حساس اور سیاسی طور پر نقصان دہ ہے، کیونکہ امریکہ میں گیسولین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ووٹرز کو ناراض کر سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی ٹریفک کے لیے کھلا ہے اور سینٹکام آزادیِ نیویگیشن کے لیے تیار ہے، لیکن زمین پر جنگی شعلے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سخت بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اب کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Comments
Post a Comment