ٹرمپ کا "گارڈین فیس" کا دعویٰ اور ایران کا منہ توڑ جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالے گا اور اس کی حفاظت کے بدلے دنیا کے امیر ممالک سے 20 فیصد ٹول ٹیکس وصول کرے گا۔ انہوں نے ایران کے تمام تجارتی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا بھی باقاعدہ اعلان کیا۔ اس پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "آبنائے ہرمز کا اصل رکھوالا اور گارڈین ہمیشہ سے صرف ایران ہے اور رہے گا۔ ٹرمپ کا 20 فیصد ٹیکس بہت زیادہ ہے، لیکن اگر کوئی سیکیورٹی فراہم کرتا ہے تو اس کی فیس ملنی چاہیے۔" تاہم ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی تسلط کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔
IRGC vows ‘greater humiliation’ for US over Strait of Hormuz mischiefhttps://t.co/jJWxwkfuYb
— Press TV 🔻 (@PressTV) July 13, 2026
اس تناؤ کے فوری بعد امریکی میزائلوں نے ایرانی شہر عبادان میں تین مقامات پر بمباری کی جس میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلابِ ایران (IRGC) نے بحرین میں قائم امریکی فوجی تنصیبات اور عمان میں نصب امریکی ریڈار سسٹمز پر ڈرونز اور میزائلوں کی برسات کر دی۔ ایران نے کویت میں موجود امریکی بیسز 'علی السالم' اور 'احمد الجابر' کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ لڑائی میں شدت آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں فوری طور پر 2 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 77.68 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 13, 2026
تبصرہ و تجزیہ: ہرمز کا بحران اور عالمی معیشت کی تباہی کا خطرہ
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف مشرقِ وسطیٰ کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی کل پیٹرولیم اور گیس سپلائی کا پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس بین الاقوامی پانی پر یکطرفہ قبضہ کرنے اور ٹیکس لگانے کی کوششیں بین الاقوامی بحری قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دوسری طرف ایران کا جواب بھی انتہائی خطرناک ہے جس نے اب پورے خلیجی خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو دنیا بھر میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی، جس سے افراطِ زر کا ایک ایسا طوفان آئے گا جسے سنبھالنا کسی ملک کے بس میں نہیں رہے گا۔ اقوامِ متحدہ اور چین نے بھی فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے نیوی گیشن کی آزادی کو بحال کرنے پر زور دیا ہے۔

Comments
Post a Comment