بھارت، برطانیہ تجارتی معاہدہ نافذ، ڈیوٹی ختم

Flags of India and the United Kingdom displayed together representing the bilateral trade agreement
بھارت اور برطانیہ کے مابین تاریخی "جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ" (CETA) باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز نافذ ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف فوری طور پر ختم یا کم کر دیے گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کی سروسز کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے مارکیٹ تک رسائی انتہائی آسان ہو جائے گی۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیرف کٹوتیوں کی تفصیلات اور بھارتی برآمد کنندگان کو فوائد

اس معاہدے کے تحت برطانیہ فوری طور پر 96.8 فیصد ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹیز ختم کر رہا ہے، جس سے بھارتی ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتوں، سمندری مصنوعات، اور زیورات کی صنعت کو برطانوی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری (ٹیکس فری) رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ بھارتی حکام کو توقع ہے کہ ان شعبوں میں جہاں برطانوی ٹیرف 4 سے 20 فیصد تک تھے، وہاں ڈیوٹی ختم ہونے سے برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔ مالی سال 2025-26 میں بھارت نے برطانیہ کو 13.44 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں جبکہ 11.68 ارب ڈالر کی درآمدات کی تھیں۔ اس نئے معاہدے سے انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات 2030 تک 7.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔

دوسری طرف، بھارت اپنے ہاں 64.1 فیصد مصنوعات پر ڈیوٹی فوری طور پر ختم کر رہا ہے جبکہ حساس مصنوعات کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ برطانیہ کو بھارت کی گاڑیوں اور الکوحل کی بڑی مارکیٹ تک مرحلہ وار رسائی ملے گی، جس کے تحت سالانہ 37 ہزار گاڑیاں ترجیحی نرخوں پر بھارت درآمد کی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ آئی ٹی، ٹیلی کام، فنانس، اور تعلیم سمیت 137 سروسز کے شعبوں میں رسائی بڑھائی گئی ہے۔ ایک اور اہم "ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن" کے تحت تقریباً 75 ہزار بھارتی ملازمین کو 5 سال تک برطانیہ کے نیشنل انشورنس سسٹم میں ادائیگیوں سے استثنیٰ مل گیا ہے، جس سے کمپنیوں کے اربوں روپے بچیں گے۔

تبصرہ و تجزیہ

یہ تجارتی معاہدہ برطانوی اور بھارتی معیشتوں کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ برطانیہ کے لیے یورپی یونین سے علیحدگی (Brexit) کے بعد بھارت جیسی دنیا کی تیز ترین ابھرتی ہوئی معیشت تک ترجیحی رسائی حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے برطانوی مالیاتی، انشورنس اور تعلیمی اداروں کو بھارت میں پھیلنے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف، بھارت کے لیے اپنے سروسز سیکٹر اور انجینئرنگ سیکٹر کو یورپی مارکیٹ میں مستحکم کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر تحفظ پسندانہ (Protectionist) پالیسیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود، کثیر جہتی اور دوطرفہ تجارتی آزادیاں اب بھی معاشی ترقی کا سب سے بڑا انجن ہیں۔


⬇️ Click to Read this Economic Story in English

Milestone Achieved: Landmark India-UK Free Trade Agreement Takes Effect


NEW DELHI / LONDON: The landmark India-UK Comprehensive Economic and Trade Agreement officially took effect on Wednesday, instantly slashing tariffs on billions of dollars worth of goods and expanding bilateral market access. Under the agreement, Britain has immediately eliminated duties on 96.8% of tariff lines, granting duty-free access to Indian textiles, leather, footwear, and gems.

Phased Auto Quotas and National Insurance Exemptions

In return, India has removed immediate duties on 64.1% of tariff lines and established a phased quota allowing up to 37,000 British-built vehicles per year to enter at preferential rates. The services package expands access across 137 sub-sectors, including IT, finance, and education. Additionally, a linked social security pact exempts eligible Indian professionals from paying into the UK's National Insurance system for up to five years, directly benefiting over 75,000 workers.

Comments