ٹیرف کٹوتیوں کی تفصیلات اور بھارتی برآمد کنندگان کو فوائد
اس معاہدے کے تحت برطانیہ فوری طور پر 96.8 فیصد ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹیز ختم کر رہا ہے، جس سے بھارتی ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتوں، سمندری مصنوعات، اور زیورات کی صنعت کو برطانوی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری (ٹیکس فری) رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ بھارتی حکام کو توقع ہے کہ ان شعبوں میں جہاں برطانوی ٹیرف 4 سے 20 فیصد تک تھے، وہاں ڈیوٹی ختم ہونے سے برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔ مالی سال 2025-26 میں بھارت نے برطانیہ کو 13.44 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں جبکہ 11.68 ارب ڈالر کی درآمدات کی تھیں۔ اس نئے معاہدے سے انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات 2030 تک 7.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔
دوسری طرف، بھارت اپنے ہاں 64.1 فیصد مصنوعات پر ڈیوٹی فوری طور پر ختم کر رہا ہے جبکہ حساس مصنوعات کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ برطانیہ کو بھارت کی گاڑیوں اور الکوحل کی بڑی مارکیٹ تک مرحلہ وار رسائی ملے گی، جس کے تحت سالانہ 37 ہزار گاڑیاں ترجیحی نرخوں پر بھارت درآمد کی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ آئی ٹی، ٹیلی کام، فنانس، اور تعلیم سمیت 137 سروسز کے شعبوں میں رسائی بڑھائی گئی ہے۔ ایک اور اہم "ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن" کے تحت تقریباً 75 ہزار بھارتی ملازمین کو 5 سال تک برطانیہ کے نیشنل انشورنس سسٹم میں ادائیگیوں سے استثنیٰ مل گیا ہے، جس سے کمپنیوں کے اربوں روپے بچیں گے۔
This is a significant moment in the India-United Kingdom partnership!
— Narendra Modi (@narendramodi) July 15, 2026
With the coming into force of the Comprehensive Economic and Trade Agreement and the Agreement on Social Security, our economic linkages are going to get even deeper. Together, these agreements translate our… https://t.co/6yZR0IUfCP
تبصرہ و تجزیہ
یہ تجارتی معاہدہ برطانوی اور بھارتی معیشتوں کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ برطانیہ کے لیے یورپی یونین سے علیحدگی (Brexit) کے بعد بھارت جیسی دنیا کی تیز ترین ابھرتی ہوئی معیشت تک ترجیحی رسائی حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے برطانوی مالیاتی، انشورنس اور تعلیمی اداروں کو بھارت میں پھیلنے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف، بھارت کے لیے اپنے سروسز سیکٹر اور انجینئرنگ سیکٹر کو یورپی مارکیٹ میں مستحکم کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر تحفظ پسندانہ (Protectionist) پالیسیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود، کثیر جہتی اور دوطرفہ تجارتی آزادیاں اب بھی معاشی ترقی کا سب سے بڑا انجن ہیں۔

Comments
Post a Comment