پاکستانی آموں کی دھوم اور امریکی کانگریس مین کا بڑا بیان
اس میٹھے فیسٹیول میں پاکستان کے مشہورِ زمانہ آموں کی اقسام بشمول چونسہ، انور رٹول اور سندھڑی کو مختلف تخلیقی طریقوں، لذیذ کھانوں اور مشروبات کی شکل میں مہمانوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ تقریب میں امریکی کانگریس کے رکن ریان زنکے نے خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "میری نظر میں امریکہ اور پاکستان کے مابین حکومتی اور عوامی سطح پر تعلقات آج جتنے مضبوط ہیں، تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں رہے"۔ اس موقع پر پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے پاکستانی آم کو "محبت کا پھل" قرار دیا جو دونوں ممالک کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کی علامت ہے۔
The Embassy of Pakistan proudly hosted its highly anticipated annual Mango Festival, a flagship cultural event that drew hundreds of Americans, member of US administration, law makers and their staffers, diplomats, think tank community, and the Pakistani-American community.… pic.twitter.com/u1l0MslAd8
— Pakistan Embassy US (@PakinUSA) July 17, 2026
تقریب میں ایک خاص ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں ایک منفرد ثقافتی سنگم پیش کیا گیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت امریکی قومی ترانے کو روایتی پاکستانی موسیقی اور آلات کے انداز میں دوبارہ ترتیب دیا گیا تھا، جسے پاک-امریکہ کمیونٹی نے امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ اور دونوں ممالک کے مابین 79 سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے پر بطور خراجِ تحسین تیار کیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
ثقافتی اور غذائی ڈپلومیسی (ثقافتی سفارت کاری) ہمیشہ سے دو طرفہ ریاستی تعلقات کو نرم اور دوستانہ بنانے کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ رہی ہے۔ پاکستانی سفارت خانے کا ہر سال واشنگٹن میں مینگو فیسٹیول کا انعقاد نہ صرف پاکستان کی زرعی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں متعارف کرانے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے سفارت کاروں اور سیاست دانوں کو غیر رسمی ماحول میں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ امریکی قومی ترانے کو پاکستانی دھنوں میں رنگ کر پیش کرنا امریکی عوام کے ساتھ مضبوط پبلک ریلیشنز بنانے کی ایک بہترین اور جدید اسٹریٹیجی ہے، جو روایتی سیکیورٹی تعلقات سے ہٹ کر عوامی اور معاشی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔

Comments
Post a Comment