’ہوا ہوا‘ فیم گلوکار حسن جہانگیر کا بڑا انکشاف، اداکارہ ریکھا کا محبت بھرا خط اور بالی ووڈ فلمیں چھوڑنے کا افسوس
اداکارہ ریکھا کا خط اور بالی ووڈ سپر اسٹارز سے یارانے
پوڈکاسٹ کے دوران جب احمد علی بٹ نے ان سے ماضی کی سحر انگیز بھارتی اداکارہ ریکھا کی جانب سے محبت بھرا خط لکھے جانے کی افواہ پر سوال کیا، تو حسن جہانگیر نے مسکراتے ہوئے ایک رومانوی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ محبت کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، لیکن کچھ باتیں نجی ہی رہنی چاہئیں، اس لیے وہ اس راز پر زیادہ کھل کر بات نہیں کریں گے۔ گلوکار نے مزید بتایا کہ مادھوری ڈکشٹ، گووندا، شاہ رخ خان، سلمان خان اور متھن چکرورتی جیسے بالی ووڈ کے صفِ اول کے فنکار آج بھی ان کے اچھے دوست ہیں اور ان کے درمیان اکثر خیرسگالی کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔
حسن جہانگیر نے اپنے فنی کیریئر کی ایک بڑی پشیمانی اور افسوس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں قیام کے دوران انہیں مرکزی ہیرو کے طور پر متعدد فلموں کی آفرز ہوئی تھیں۔ ان فلموں میں انہیں اس وقت کی ہٹ ہیروئنز نیلم اور مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کرنے کا سنہری موقع مل رہا تھا، لیکن انہوں نے ان تمام فلمی پیشکشوں کو مسترد کر کے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ گلوکار کا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر انہیں آج بھی شدید افسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ بالی ووڈ میں ایک بڑا اداکاری کا کیریئر بنا سکتے تھے۔
تبصرہ و تجزیہ: فن اور موسیقی سرحدوں کی محتاج نہیں
80 اور 90 کی دہائی میں پاکستانی پاپ میوزک کا برصغیر میں ایک یکطرفہ راج تھا۔ حسن جہانگیر کا گانا ’ہوا ہوا‘ اس دور کا ایک ایسا ڈیجیٹل بلاک بسٹر تھا جس نے بالی ووڈ فلم انڈسٹری کو بھی اپنے دھن پر ناچنے پر مجبور کر دیا۔ اس کہانی سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فن اور موسیقی کبھی بھی سیاسی سرحدوں کی محتاج نہیں رہتیں۔ حسن جہانگیر کا پاکستان واپس آنے کا فیصلہ حب الوطنی کے لحاظ سے تو شاید درست ہو، لیکن بطور آرٹسٹ ایک عالمی پلیٹ فارم کھو دینے کا افسوس فطری ہے، جو آج کے نوجوان فنکاروں کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔

Comments
Post a Comment