انسٹاگرام کا بھیانک چہرہ! بھارت میں بچوں کے غیراخلاقی مواد کے پیڈ اشتہارات چلانے کا سنسنی خیز انکشاف
کمرشلائزیشن کی ہوس اور انسٹاگرام کا مجرمانہ رویہ
سب سے زیادہ افسوسناک اور حیران کن بات یہ ہے کہ انسٹاگرام پر کوئی بھی اشتہار خودکار سسٹم کی منظوری کے بغیر لائیو نہیں ہو سکتا، جس کا مطلب ہے کہ انسٹاگرام کی ٹیکنالوجی نے خود ان جرائم کو گرین سگنل دیا۔ بی بی سی کی ٹیم نے جب اس گھناؤنے اشتہار کو انسٹاگرام پر رپورٹ کیا، تو 24 گھنٹے بعد جواب آیا کہ "یہ اشتہار ہماری کمیونٹی گائیڈلائنز کی خلاف ورزی نہیں کرتا!" تاہم، جب بی بی سی نے باقاعدہ طور پر میٹا کی انتظامیہ سے سخت سوالات کیے، تو کمپنی نے فوری طور پر متعدد اشتہارات کو ہٹانے اور متعلقہ اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کا اعتراف کیا۔ دوسری طرف، ٹیلی گرام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سال 2026 میں اب تک ایسے مواد سے جڑے 2 لاکھ 74 ہزار سے زائد گروپس اور چینلز کو ڈیلیٹ کیا ہے۔
انسٹاگرام کے سابق نائب صدر برائن بولینڈ نے بھی اس رپورٹ پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسٹاگرام کا الگورتھم صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک ایپ پر رکھنے کے لیے دانستہ طور پر انتہائی اور سنسنی خیز مواد دکھاتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کمپنی اب صارفین کے تحفظ اور عزتِ نفس سے زیادہ صرف کلکس اور ڈالرز کمانے پر توجہ دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ میٹا کی سالانہ آمدنی کا 98 فیصد حصہ صرف اشتہارات سے آتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کی چھٹی اور عدالتی ایکشن کی ضرورت
سوشل میڈیا کمپنیاں اب عالمی قوانین اور انسانی اخلاقیات سے بالاتر ہو چکی ہیں۔ بھارت کے سپریم کورٹ کے سابق جج مدن لوکور نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسٹاگرام مجرمانہ سرگرمیوں سے پیسہ کما رہا ہے اور یہ اتنا سنگین معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ کو اس پر خودکار نوٹس (Suo Moto) لینا چاہیے اور حکومت کو ان پلیٹ فارمز کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دینا چاہیے۔ جب تک میٹا جیسی بڑی کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کے جرمانے اور ان کے مالکان کو جیل کی سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک یہ معصوم بچوں کے حقوق اور سیکیورٹی کا سودا اسی طرح ریٹنگ اور اشتہارات کے لیے کرتی رہیں گی۔
آن لائن چائلڈ کرائمز اور میٹا کے خلاف قانونی کارروائیاں:
سوشل میڈیا پر بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم اور ان کمپنیوں کے خلاف ہونے والے مقدمات کا پسِ منظر درج ذیل ہے:
- نیو میکسیکو کیس اور 375 ملین ڈالر جرمانہ (2026): رواں سال امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے میٹا کو بچوں کے تحفظ کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا، جہاں سابق فیس بک حکام نے میٹا کے خلاف گواہی دی تھی۔
- این سی ایم ای سی (NCMEC) سائبر ٹپ لائن رپورٹس: امریکی قانون کے تحت تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایسے جرائم کی رپورٹ گلوبل سینٹرلائزڈ سسٹم کو دینا لازمی ہے۔ سال 2025 میں اس ٹپ لائن پر بھارت سے 19 لاکھ جبکہ امریکہ سے 20 لاکھ رپورٹس موصول ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ ڈیٹا فیس بک اور انسٹاگرام کا تھا۔
- انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن سے دوری: ٹیلی گرام جیسی میسجنگ ایپ تفتتیش اور تحفظ کے عالمی اداروں (جیسے IWF) کا حصہ بننے سے کتراتی ہے، جس کی وجہ سے مجرم انسٹاگرام سے ٹریفک لے کر ٹیلی گرام پر جا کر باآسانی اپنا نیٹ ورک چلاتے ہیں اور سیکیورٹی اداروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
انسٹاگرام کا یہ بھیانک چہرہ سامنے آنے کے بعد اب عالمی سطح پر ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ اس رپورٹ کے بعد میٹا کے خلاف کیا تاریخی اور کڑا ایکشن لیتے ہیں۔

Comments
Post a Comment