پاکستان اور قطر کا مشترکہ امن فارمولا اور آبنائے ہرمز پر پیشرفت
اس بھیانک ہوتے ہوئے معرکے کو روکنے کے لیے پاکستان اور قطر نے مشترکہ طور پر امریکہ اور ایران کو ایک بڑا امن فارمولا پیش کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس فارمولے کے تحت دونوں فریقین کو 9 جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو سکے۔ اس منصوبے کے مطابق ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولے گا جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی ختم کر کے تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھائے گا۔ فارمولے میں دو ہفتے کی فوری جنگ بندی کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ اسلام آباد یا ڈوھا میں دوبارہ بات چیت شروع ہو سکے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے ثالثوں کی تجاویز موصول ہو گئی ہیں اور وہ ان کا جائزہ لے رہا ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 20, 2026
اس سفارتی کوشش کے باوجود گراؤنڈ پر جھڑپیں جاری ہیں۔ امریکی فورسز نے مسلسل نویں روز ایران کے کئی شہروں بشمول تبریز، بوشہر اور چابہار پر فضائی حملے کیے ہیں۔ جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت، اردن اور شام میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور ڈرون اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیز آبنائے ہرمز میں تیل کے دو ٹینکرز کے دھماکے سے تباہ ہونے کی خبروں کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتیں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت نے امریکہ کو کسی بھی زمینی جارحیت پر سخت ترین جواب دینے کی خبردار کیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازعہ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں سے مکمل علاقائی تباہی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت موقف اور ایرانی قیادت کا کسی بھی قیمت پر پیچھے نہ ہٹنے کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی عسکری طاقت کے ذریعے برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی اس جاری جنگ میں ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند پیشرفت ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کے ٹینکرز پر حملوں نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری، خاص طور پر طاقتور ممالک کو پاکستان اور قطر کے 2 ہفتے کے جنگ بندی فارمولے کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ عسکری حل کے بجائے صرف سفارت کاری ہی خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment