کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر جواب، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں زلزلہ
عنصری سیز فائر کی ناکامی کے بعد ایران اور اس کے اتحادیوں نے بھی جواب میں سخت پیش قدمی کی ہے۔ ایرانی فورسز نے کویت میں قائم امریکی ملٹری کیمپوں پر حملوں کے علاوہ بحرین میں امریکی بحری بیڑے (Fifth Fleet) کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق جون سے اب تک 59 شہری ہلاک اور 666 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں پر پڑ رہے ہیں، جہاں تیل کے ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
دوسری طرف، اس بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے اہم پیش رفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، چین کی تجویز کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی کے اسلام آباد کے حالیہ دوروں کے دوران ابتدائی بات چیت ہوئی ہے تاکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکی اور اسرائیلی حکام کا اعلیٰ سطح پر یکجا ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیج میں جاری یہ تنازع اب ایک انتہائی نازک موڑ پر داخل ہو چکا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'لاکڈ اینڈ لوڈڈ' کی پالیسی اپنا کر ایران پر مزید اقتصادی اور ملٹری دباؤ بڑھا رہے ہیں، تو دوسری طرف تیل کی عالمی مارکیٹ اور سپلائی چین کی تباہی پورے کرہِ ارض کو شدید معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں عالمی امن کے لیے ایک مثبت کرن ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم اس جنگ کا پائیدار خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب طاقت کے مظاہرے کو روک کر مذاکرات کی میز پر سنجیدہ سیاسی حل کی راہ ہموار کی جائے۔

Comments
Post a Comment