عالمی عدالت کے وارنٹ، میئر ممدانی کا مؤقف اور اسرائیل کا ردِعمل
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے پریس کانفرنس اور نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی کریمنل کورٹ نے نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے تحت وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اور وہ دنیا کی نظروں میں ایک مجرم ہیں۔ میئر ممدانی نے زور دے کر کہا کہ عالمی عدالت کے ان وارنٹس کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ولادیمیر پوتن یا کسی دوسرے رہنما کے معاملے میں لیا جاتا ہے، اور نیویارک سٹی کی انتظامیہ اپنے مقامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پر عمل کرنے کے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو ہر سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں۔
Benjamin Netanyahu will not be arrested, in any way, shape, or form, while in the United States of America. He is fighting against the Islamic Republic of Iran, which recently killed 52,000 innocent protestors, and has spent the last 47 years killing American Soldiers, and… pic.twitter.com/G2yWSuCZsc
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) July 20, 2026
دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے میئر ممدانی کے اس بیان پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالت برائے جرائم (ICC) کو ایک 'بوگس اور کینگارو کورٹ' قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے ایک آن لائن پیغام میں کہا کہ میئر ممدانی اپنی عوامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل کے منتخب رہنما کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل اس بین الاقوامی عدالت کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر کے درمیان یہ کھل کر سامنے آنے والا اختلاف امریکی وفاقی اور مقامی حکومتی اختیارات کی ایک نئی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو مکمل سفارتی تحفظ فراہم کرنا ایک طے شدہ پالیسی ہے، جبکہ نیویارک کے میئر کا یہ اقدام عالمی قوانین اور حقوقِ انسانی کے احترام کو اجاگر کرنے کی ایک سیاسی اور قانون پر مبنی کوشش ہے۔ اگرچہ امریکہ آئی سی سی کا رکن نہ ہونے کے باعث ان وارنٹس کو ماننے کا پابند نہیں ہے، لیکن نیویارک میں نیتن یاہو کی آمد پر میئر کی اس قانونی حکمتِ عملی نے اسرائیلی حکومت اور امریکی این پی ڈی ڈیپارٹمنٹس کے لیے ایک بڑی سفارتی رکاوٹ پیدا کر دی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment