نیتن یاہو کی گرفتاری پر ٹرمپ اور نیویارک میئر آمنے سامنے

Donald Trump and Benjamin Netanyahu in a diplomatic setting representing US Israel international relations
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک اہم اور سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو جب بھی امریکہ کے دورے پر آئیں گے، انہیں کسی بھی صورت، حالت یا طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان نیویارک شہر کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں میئر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کا قانون دان شعبہ (Legal Department) اس بات پر غور کر رہا ہے کہ مقامی قوانین کے تحت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ پر کیا عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

عالمی عدالت کے وارنٹ، میئر ممدانی کا مؤقف اور اسرائیل کا ردِعمل

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے پریس کانفرنس اور نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی کریمنل کورٹ نے نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے تحت وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اور وہ دنیا کی نظروں میں ایک مجرم ہیں۔ میئر ممدانی نے زور دے کر کہا کہ عالمی عدالت کے ان وارنٹس کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ولادیمیر پوتن یا کسی دوسرے رہنما کے معاملے میں لیا جاتا ہے، اور نیویارک سٹی کی انتظامیہ اپنے مقامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پر عمل کرنے کے تمام آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو ہر سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے میئر ممدانی کے اس بیان پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالت برائے جرائم (ICC) کو ایک 'بوگس اور کینگارو کورٹ' قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے ایک آن لائن پیغام میں کہا کہ میئر ممدانی اپنی عوامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل کے منتخب رہنما کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل اس بین الاقوامی عدالت کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر کے درمیان یہ کھل کر سامنے آنے والا اختلاف امریکی وفاقی اور مقامی حکومتی اختیارات کی ایک نئی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو مکمل سفارتی تحفظ فراہم کرنا ایک طے شدہ پالیسی ہے، جبکہ نیویارک کے میئر کا یہ اقدام عالمی قوانین اور حقوقِ انسانی کے احترام کو اجاگر کرنے کی ایک سیاسی اور قانون پر مبنی کوشش ہے۔ اگرچہ امریکہ آئی سی سی کا رکن نہ ہونے کے باعث ان وارنٹس کو ماننے کا پابند نہیں ہے، لیکن نیویارک میں نیتن یاہو کی آمد پر میئر کی اس قانونی حکمتِ عملی نے اسرائیلی حکومت اور امریکی این پی ڈی ڈیپارٹمنٹس کے لیے ایک بڑی سفارتی رکاوٹ پیدا کر دی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

Netanyahu Will Not Be Arrested in US, Assures Trump as NYC Mayor Mamdani Explores Options


WASHINGTON/NEW YORK: US President Donald Trump stated firmly that Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu will not face arrest in any shape or form during his visits to the United States. Trump’s reaction follows comments from New York City Mayor Zohran Mamdani, who confirmed that the city's legal team is actively assessing options regarding the International Criminal Court (ICC) arrest warrant against Netanyahu.

Diplomatic Clash Over ICC Warrants

Mayor Mamdani reiterated during press briefings that ICC arrest warrants for alleged war crimes should be honored and treated with utmost seriousness. In response, Israel dismissed the ICC as a "kangaroo court" and labeled the arrest warrant "bogus," accusing Mamdani of political diversion. As Netanyahu routinely travels to New York for the UN General Assembly every September, the legal jurisdiction debate between federal authority and NYC local administration continues to escalate.

Comments