'گرین لینڈ پر ڈنمارک کا نہیں بلکہ امریکہ کا کنٹرول ہونا چاہیے' ٹرمپ کا دعویٰ!

President Donald Trump at a NATO summit meeting discussing Arctic security and Greenland sovereignty
ترکیہ میں جاری نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی تسلط کا متنازع مؤقف دہرا کر نیٹو اتحادیوں کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ "گرین لینڈ پر ڈنمارک کا نہیں بلکہ امریکہ کا کنٹرول ہونا چاہیے"۔ صدر ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان نے واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے تعلقات کو، جو دونوں نیٹو کے بانی ارکان ہیں، ایک بار پھر شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔

ڈنمارک کا کرارا جواب اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی سردی

امریکی صدر کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے انقرہ میں میڈیا سے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ گرین لینڈ کو خریدنا یا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یہ پوزیشن سب کے علم میں ہے، لیکن دنیا کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا"۔ انہوں نے تمام اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ڈنمارک کی خود مختاری کا احترام کریں۔ دوسری طرف، گرین لینڈ کے وزیرِ خارجہ میوٹ ایگیڈ نے بھی سوشل میڈیا پر دوٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف وہاں کے عوام کریں گے اور یہ علاقہ برائے فروخت نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کی مدد کے لیے کوئی فنڈز خرچ نہیں کر رہا، جبکہ یہ علاقہ امریکی دفاع کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ اس وقت روسی اور چینی بحری جہازوں کے نرغے میں ہے، اور امریکہ یہ سب خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا۔ ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ ڈنمارک روس کے خلاف امریکی اربوں ڈالر کی فوجی امداد تو لیتا ہے، لیکن گرین لینڈ کے معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو رواں سال جون سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے ساتھ اس حساس معاملے پر ماہانہ بنیادوں پر پسِ پردہ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: جزیرے کی خرید و فروخت اور نئی سرد جنگ کا آغاز

ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی خالصتاً تجارتی اور "کارپوریٹ مائنڈ سیٹ" پر مبنی ہے، جہاں وہ خود مختار ممالک کے جزیروں کو بھی ایک رئیل اسٹیٹ پراپرٹی کی طرح دیکھتے ہیں۔ آرکٹک ریجن (High North) اس وقت دنیا کی سپر پاورز کے درمیان نئی سرد جنگ کا گڑھ بن چکا ہے۔ چین اور روس کی اس خطے میں بڑھتی ہوئی بحری موجودگی نے امریکہ کو شدید سیکیورٹی فوبیا میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ ڈنمارک نے اس مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، لیکن نیٹو کے اندر یہ اندرونی دراڑیں اس اہم فوجی اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں، جو روس کے خلاف متحد ہونے کے دعوے کرتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Geopolitical Story in English

Trump Reaffirms Greenland Push at NATO Summit, Sparks Outrage in Denmark


ANKARA: US President Donald Trump has reignited major diplomatic tensions at the NATO summit in Turkey, reiterating that Greenland should be controlled by the United States rather than Denmark. Speaking during a bilateral meeting with Turkish President Recep Tayyip Erdogan, Trump claimed Denmark’s refusal to hand over the territory has severely harmed Washington's relationship with European allies.

'Greenland Is Not for Sale' - Danish PM Responds

Danish Prime Minister Mette Frederiksen swiftly rejected Trump's assertions, stating firmly that Greenland is a sovereign territory and absolutely not for sale. Greenland's Foreign Minister Mute Egede echoed the sentiment, asserting that the island's future will only be decided by its people. Meanwhile, US Secretary of State Marco Rubio continues monthly diplomatic dialogues, citing rising Russian and Chinese naval assets in the Arctic as a core security concern for the US.

Comments