ڈنمارک کا کرارا جواب اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی سردی
امریکی صدر کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے انقرہ میں میڈیا سے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ گرین لینڈ کو خریدنا یا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یہ پوزیشن سب کے علم میں ہے، لیکن دنیا کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا"۔ انہوں نے تمام اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ڈنمارک کی خود مختاری کا احترام کریں۔ دوسری طرف، گرین لینڈ کے وزیرِ خارجہ میوٹ ایگیڈ نے بھی سوشل میڈیا پر دوٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف وہاں کے عوام کریں گے اور یہ علاقہ برائے فروخت نہیں ہے۔
It is a great pleasure to be at the #NATOsummit Defence Industry Forum
— Mark Rutte (@SecGenNATO) July 7, 2026
To keep our 1bn people safe in a more dangerous world, we need a transatlantic defence industrial revolution
we need to turn our cash into capabilities
and we need it now pic.twitter.com/GPd0zsKqmc
صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کی مدد کے لیے کوئی فنڈز خرچ نہیں کر رہا، جبکہ یہ علاقہ امریکی دفاع کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ اس وقت روسی اور چینی بحری جہازوں کے نرغے میں ہے، اور امریکہ یہ سب خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا۔ ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ ڈنمارک روس کے خلاف امریکی اربوں ڈالر کی فوجی امداد تو لیتا ہے، لیکن گرین لینڈ کے معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو رواں سال جون سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے ساتھ اس حساس معاملے پر ماہانہ بنیادوں پر پسِ پردہ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: جزیرے کی خرید و فروخت اور نئی سرد جنگ کا آغاز
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی خالصتاً تجارتی اور "کارپوریٹ مائنڈ سیٹ" پر مبنی ہے، جہاں وہ خود مختار ممالک کے جزیروں کو بھی ایک رئیل اسٹیٹ پراپرٹی کی طرح دیکھتے ہیں۔ آرکٹک ریجن (High North) اس وقت دنیا کی سپر پاورز کے درمیان نئی سرد جنگ کا گڑھ بن چکا ہے۔ چین اور روس کی اس خطے میں بڑھتی ہوئی بحری موجودگی نے امریکہ کو شدید سیکیورٹی فوبیا میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ ڈنمارک نے اس مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، لیکن نیٹو کے اندر یہ اندرونی دراڑیں اس اہم فوجی اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں، جو روس کے خلاف متحد ہونے کے دعوے کرتا ہے۔

Comments
Post a Comment