مونال ریسٹورنٹ، سندھ پبلک سروس کمیشن اور ایرانی ڈیزل اسمگلنگ پر اہم فیصلے
آئینی عدالت نے ایک اور تاریخی فیصلے میں اسلام آباد کے مشہور 'مونال ریسٹورنٹ' کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کے تحریر کردہ 8 صفحات کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونال کیس میں عدالتی اختیارات سے تجاوز کیا گیا تھا اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود میں مفادِ عامہ کے تعمیراتی منصوبوں کی منظوری کا اصل اختیار صرف کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکوائری اور کامیاب امیدواروں کے انٹرویو روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات بھی معطل کر دیے ہیں۔
ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بنچ نے کسٹمز کی وہ اپیل مسترد کر دی جس میں ضبط شدہ ڈیزل کی نیلامی کے بعد حاصل رقم واپس کرنے پر حکم امتناع مانگا گیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ "ایک ٹینکر کا اجازت نامہ دس دس ٹینکرز لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے"۔ مزید برآں، عدالت نے کراچی یونیورسٹی کی سروس معاملات سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 13 جون 2025 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے ملکی عدالتی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہیں، خصوصاً سپریم کورٹ کے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئینی عدالت اب اداروں کے دائرہ اختیار اور قانون کی لکیر کو سختی سے نافذ کرنے کے موڈ میں ہے۔ بینک فراڈ کیسز میں نیب کے گٹھ جوڑ اور کسٹمز کے اسمگلنگ کے خلاف روایتی لیت و لعل پر معزز جج صاحبان کے ریمارکس پاکستان کے کرپشن زدہ ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئینی عدالت کے ان سخت گیر فیصلوں سے نہ صرف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کی نئی روایت قائم ہوگی، بلکہ سی ڈی اے اور سندھ پبلک سروس کمیشن جیسے اداروں کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے کی نئی راہ ملے گی۔

Comments
Post a Comment