آئینی عدالت کے اہم فیصلے، نیب کو نوٹس، مونال کیس کا فیصلہ کالعدم

Gavel and scales of justice representing the major decisions of the Federal Constitutional Court in Pakistan
پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے حارث اسٹیل ملز ریفرنس ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت تک موجودہ اسٹیٹس برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ بینک آف پنجاب کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بینک کے بعض افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کا فراڈ قرضہ حاصل کیا گیا۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ "پہلے احتیاط نہیں کرتے اور وقوعہ ہونے کے بعد جاگتے ہیں"، جبکہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا نیب کے ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے مزید سماعت تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی ہے۔

مونال ریسٹورنٹ، سندھ پبلک سروس کمیشن اور ایرانی ڈیزل اسمگلنگ پر اہم فیصلے

آئینی عدالت نے ایک اور تاریخی فیصلے میں اسلام آباد کے مشہور 'مونال ریسٹورنٹ' کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کے تحریر کردہ 8 صفحات کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونال کیس میں عدالتی اختیارات سے تجاوز کیا گیا تھا اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود میں مفادِ عامہ کے تعمیراتی منصوبوں کی منظوری کا اصل اختیار صرف کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکوائری اور کامیاب امیدواروں کے انٹرویو روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات بھی معطل کر دیے ہیں۔

ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بنچ نے کسٹمز کی وہ اپیل مسترد کر دی جس میں ضبط شدہ ڈیزل کی نیلامی کے بعد حاصل رقم واپس کرنے پر حکم امتناع مانگا گیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ "ایک ٹینکر کا اجازت نامہ دس دس ٹینکرز لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے"۔ مزید برآں، عدالت نے کراچی یونیورسٹی کی سروس معاملات سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 13 جون 2025 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے ملکی عدالتی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہیں، خصوصاً سپریم کورٹ کے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئینی عدالت اب اداروں کے دائرہ اختیار اور قانون کی لکیر کو سختی سے نافذ کرنے کے موڈ میں ہے۔ بینک فراڈ کیسز میں نیب کے گٹھ جوڑ اور کسٹمز کے اسمگلنگ کے خلاف روایتی لیت و لعل پر معزز جج صاحبان کے ریمارکس پاکستان کے کرپشن زدہ ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئینی عدالت کے ان سخت گیر فیصلوں سے نہ صرف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کی نئی روایت قائم ہوگی، بلکہ سی ڈی اے اور سندھ پبلک سروس کمیشن جیسے اداروں کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے کی نئی راہ ملے گی۔


⬇️ Click to Read this Judicial Story in English

Federal Constitutional Court Issues Notice to NAB in Haris Steel Case; Overturns Supreme Court's Monal Decision


ISLAMABAD: In a series of landmark rulings, the Federal Constitutional Court of Pakistan has issued a notice to the National Accountability Bureau (NAB) regarding the closure of the Haris Steel Mills reference, ordering status quo. Bank of Punjab's counsel Khawaja Haris argued that a massive fraudulent loan was obtained using forged documents with the connivance of bank officials.

Major Verdicts on Monal, SPSC, and Smuggling Appeals

Under the leadership of Chief Justice Amin-ud-Din Khan, the bench also released an 8-page written order overturning the Supreme Court's previous decision to demolish the iconic Monal Restaurant, stating that judicial limits were crossed and the CDA holds sole authority over Margalla Hills development. Additionally, the court suspended Sindh High Court's orders regarding the Sindh Public Service Commission inquiry and rejected Customs' stay request over seized Iranian diesel auctions.

Comments