ٹرمپ کی نئی تجارتی جنگ اور یورپی ممالک کو 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریفنڈز میں یہ غیر معمولی اضافہ مکمل طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا نتیجہ ہے، جس کے بعد ٹرمپ کا بجٹ خسارہ کم کرنے اور فیکٹریاں واپس امریکہ لانے کا خواب شدید متاثر ہوا ہے۔ امریکی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 1.367 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ امریکہ نے صرف اپنے قرضوں پر سود کی مد میں 1 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم خرچ کی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ کا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف 24 جولائی کو ختم ہو رہا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس اب برطانیہ، جاپان، بھارت، تائیوان اور چین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد کے نئے ڈیوٹی ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس سنگین معاشی جنگ میں اس وقت مزید تیزی آئی جب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر یورپی ممالک کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے دھمکی دی کہ جو بھی یورپی ملک (بشمول برطانیہ) ایپل، گوگل اور ایمیزون جیسی امریکی ٹیک کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرے گا، اس کی تمام درآمدات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف تمام سابقہ تجارتی معاہدوں سے بالاتر ہوں گے۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں ڈیجیٹل ٹیکس کے ذریعے 800 ملین پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کی ہے جبکہ فرانس، اٹلی اور اسپین میں بھی 3 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظ پسندانہ (Protectionist) معاشی پالیسیوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ درآمدی اشیاء پر بھاری ٹیکس لگا کر مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کا ٹرمپ کا منصوبہ فی الحال ناکام نظر آ رہا ہے۔ 81 ارب ڈالر کی خطیر رقم کمپنیوں کو واپس کرنے سے امریکی خزانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی ریکارڈ حد تک پہنچ گئی ہے۔ یورپی ممالک پر ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کے جواب میں 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے ایک بار پھر عالمی تجارتی جنگ (Trade War) شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جو بالآخر عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کرے گی اور عام صارفین کے لیے شدید مہنگائی کا باعث بنے گی۔

Comments
Post a Comment