شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کے تحریری و شفاہی وعدے
ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران، چینی صدر نے انہیں واضح طور پر یقین دہانی کروائی تھی کہ چین کسی بھی صورت میں ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا اور اس پابندی میں تمام چینی کمپنیاں بھی شامل ہوں گی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں شخصاً یہی یقین دہانی کروائی ہے کہ ماسکو ایران کو کسی بھی قسم کا جنگی سامان نہیں بیچے گا۔ امریکی صدر نے دونوں عالمی رہنماؤں کے بیانات پر فی الحال اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے پر متعدد روسی اور چینی کمپنیوں و افراد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس نے اس بات کی تفتیش بھی شروع کی ہے کہ آیا خلیج میں امریکی اہداف پر حملوں کے لیے روس ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی یا خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے یا نہیں، تاہم کریملن نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
صدر ٹرمپ کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن کو اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ ایران جنگ میں چین اور روس کا کردار ڈھکے چھپے انداز میں بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے دونوں سربراہان کے وعدوں کا ذکر کیا ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے پیشگی وارننگ دراصل بیجنگ اور ماسکو کو اس سرحد سے دور رکھنے کی ایک سفارتی اور معاشی کوشش ہے۔ خلیج میں امریکی انٹیلی جنس اہداف پر ڈرون حملوں نے امریکہ کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، اور اگر روس یا چین کی جانب سے ایران کو خفیہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کا کوئی شواہد ملتے ہیں، تو یہ خطہ ایک بڑی عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر انتہائی خوفناک ہوں گے۔

Comments
Post a Comment