ٹرمپ کی چین اور روس کو سخت ترین وارننگ! ایران جنگ میں مداخلت سے دور رہنے کی تنبیہ

US President Donald Trump speaking at a press conference representing international politics
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک دھماکے دار پیغام جاری کرتے ہوئے چین اور روس کو ایران کے ساتھ جاری جنگ میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا ہتھیاروں کی فراہمی سے دور رہنے کی سخت وارننگ دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں فی الحال یہ یقین نہیں کہ چین یا روس اس تنازع میں باقاعدہ حصہ لے رہے ہیں، لیکن اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو یہ ان کے لیے "بہت برا" ثابت ہوگا اور یہ ان کے اپنے مفادات میں بالکل نہیں ہوگا۔

شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کے تحریری و شفاہی وعدے

ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران، چینی صدر نے انہیں واضح طور پر یقین دہانی کروائی تھی کہ چین کسی بھی صورت میں ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا اور اس پابندی میں تمام چینی کمپنیاں بھی شامل ہوں گی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں شخصاً یہی یقین دہانی کروائی ہے کہ ماسکو ایران کو کسی بھی قسم کا جنگی سامان نہیں بیچے گا۔ امریکی صدر نے دونوں عالمی رہنماؤں کے بیانات پر فی الحال اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے پر متعدد روسی اور چینی کمپنیوں و افراد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس نے اس بات کی تفتیش بھی شروع کی ہے کہ آیا خلیج میں امریکی اہداف پر حملوں کے لیے روس ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی یا خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے یا نہیں، تاہم کریملن نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

صدر ٹرمپ کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن کو اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ ایران جنگ میں چین اور روس کا کردار ڈھکے چھپے انداز میں بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے دونوں سربراہان کے وعدوں کا ذکر کیا ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے پیشگی وارننگ دراصل بیجنگ اور ماسکو کو اس سرحد سے دور رکھنے کی ایک سفارتی اور معاشی کوشش ہے۔ خلیج میں امریکی انٹیلی جنس اہداف پر ڈرون حملوں نے امریکہ کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، اور اگر روس یا چین کی جانب سے ایران کو خفیہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کا کوئی شواہد ملتے ہیں، تو یہ خطہ ایک بڑی عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر انتہائی خوفناک ہوں گے۔


⬇️ Click to Read this World News in English

Trump Warns China and Russia Against Involvement in Ongoing Iran Conflict


WASHINGTON: US President Donald Trump has issued a stern warning to China and Russia, stating that any involvement or weapon sales to Iran during the ongoing conflict would be "very bad for them." In a post on Truth Social, Trump noted that while he currently believes Beijing and Moscow are not participating in the war, stepping into the conflict would severely harm their interests.

Promises From Xi Jinping and Vladimir Putin

Trump revealed that Chinese President Xi Jinping personally assured him during a recent meeting in Beijing that Chinese companies would not supply arms to Iran under any circumstances. Similarly, Russian President Vladimir Putin conveyed that Moscow would refrain from weapon sales. The warning comes amid US intelligence investigations into whether Russian targeting data or drone technology was utilized in recent strikes against CIA targets in the Gulf region.

Comments