ڈگریاں راستے کھولتی ہیں لیکن کردار منزل کا تعین کرتا ہے
عدنان صدیقی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ زندگی میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ سجا دیتے ہیں اور کچھ لمحات دل کو گرما دیتے ہیں، بیٹی کو گریجویشن کیپ پہنے دیکھنا میرے لیے بالکل ایسا ہی ایک یادگار اور سحر انگیز لمحہ ہے۔ انہوں نے مریم سے مخاطب ہو کر لکھا کہ "تم آج جس شاندار شخصیت کی مالک بن چکی ہو، اسے دیکھنا ہی میرا سب سے بڑا انعام ہے۔ تمہاری ڈگری ایک سنگِ میل ہے لیکن تمہاری اخلاقی اقدار اور عاجزی تمہاری اصل کامیابی ہے، مجھے تم پر بہت فخر ہے۔"
اداکار نے والدین کے نام اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے لکھا کہ بطور والدین ہم سالہا سال بچوں کے مستقبل کی فکر میں گزار دیتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور بعض اوقات خود سے بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم کافی کر رہے ہیں؟ لیکن آج جیسے دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر بے خواب رات، ہر مشکل گفتگو، اور بچوں کو مہربانی، ڈسپلن اور ہمت کا سکھایا گیا ہر سبق یادگار اور قیمتی تھا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بچوں کی صرف تعلیم پر سرمایہ کاری نہ کریں، بلکہ ان کے کردار کو مضبوط بنائیں۔ ڈگریاں بلاشبہ ترقی کے دروازے کھولتی ہیں لیکن عاجزی، ہمدردی اور دیانتداری ہی یہ طے کرتی ہے کہ آپ زندگی میں کس حد تک آگے جائیں گے۔
تبصرہ و تجزیہ
آج کے مادی دور میں جہاں کامیابی کا معیار صرف بڑی ڈگریوں، اچھے نمبروں اور مہنگی ملازمتوں کو سمجھا جاتا ہے، وہاں عدنان صدیقی کا یہ پیغام ہر فرد کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ایک نامور شوبز شخصیت کی جانب سے کردار سازی (Character Building) پر اس قدر زور دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ڈگریاں اور شہرت عارضی ہیں، لیکن جو اقدار والدین اپنے بچوں کی شخصیت میں منتقل کرتے ہیں، وہی ان کا سب سے بڑا اثاثہ اور وراثت ہوتی ہے۔ عدنان صدیقی نے ایک قابلِ فخر والد کے طور پر اپنے اس خوبصورت نوٹ سے یہ یاد دہانی کروائی ہے کہ حقیقی کامیابی اچھے انسان بننے میں پوشیدہ ہے۔

Comments
Post a Comment