تمباکو کمپنیوں کے پرانے ہتھکنڈے اور 600 سالہ قانونی جنگیں
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دائر کیے گئے تین چوتھائی مقدمات ان ہی فوڈ جاینٹس یا ان کی نمائندہ تنظیموں نے دائر کیے، جن میں کوکا کولا، پیپسی کو، مونڈلیز، کیلوگز، ڈینون، اور فیریرو جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ فوڈ کمپنیاں بالکل وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں جو دہائیوں پہلے تمباکو انڈسٹری سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز روکنے کے لیے کرتی تھی۔ اگرچہ حل ہونے والے مقدمات میں سے 75 فیصد میں حکومتوں نے فتح حاصل کی، لیکن ان طویل قانونی جنگوں کا مجموعی دورانیہ 600 سال سے بھی زیادہ بنتا ہے، جس سے نہ صرف حکومتی پالیسیوں میں سالوں کی تاخیر ہوئی بلکہ عوامی خزانے کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
الٹرا پروسیسڈ فوڈز اب برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں عام خوراک کا نصف حصہ بن چکے ہیں، جو موٹاپا، ذیابیطس ٹائپ-2، دل کی بیماریوں اور کینسر کی بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں عدالتوں میں اس لیے سخت جنگ لڑ رہی ہیں کیونکہ وارننگ لیبلز اور ٹیکسز سے ان کی بلین ڈالر سیلز شدید متاثر ہوتی ہے۔ متعدد غریب اور ترقی پذیر ممالک ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مہنگے وکللاء اور قانونی اخراجات کے خوف سے ڈر کر صحت بخش قوانین نافذ کرنے سے کٹرا رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر انسانی صحت کا بحران مزید شدید ہوتا جا رہا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
الٹرا پروسیسڈ فوڈ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا یہ طرزِ عمل ان کے اس کھوکھلے دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ عوامی صحت کی بہتری میں حکومتوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ایک طرف یہ کمپنیاں عوامی سطح پر صحت بخش خوراک کے فروغ کا ڈرامہ رچاتی ہیں اور دوسری طرف عدالتوں کو استعمال کر کے وارننگ لیبلز اور ٹیکسز کو معطل کراتی ہیں۔ تمباکو انڈسٹری کی طرزیات کو اپناتے ہوئے ان کمپنیوں کا اصل مقصد کیسز جیتنا نہیں بلکہ کیسز کو سالوں طول دینا ہے تاکہ عوام ان کی غیر صحت بخش مصنوعات استعمال کرتے رہیں اور ان کا منافع برقرار رہے۔ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ کمپنیوں کے ان قانونی دباؤ اور بلیک میلنگ سے خوفزدہ ہوئے بغیر عوام، بالخصوص بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے سخت قوانین فوری طور پر نافذ کریں۔

Comments
Post a Comment