فوڈ کمپنیاں صحت کے قوانین رکوانے کے لیے عدالتوں میں سرگرم، تحقیق

Assorted ultra-processed junk foods and snacks representing health risk investigations
دنیا کی بڑی الٹرا پروسیسڈ فوڈ (UPF) بنانے والی کمپنیوں کی ایک سنسنی خیز تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں عوام کو مضراغت اشیاء سے بچانے والے سرکاری قوانین کو معطل یا ختم کرانے کے لیے عدالتوں کا سہارا لے رہی ہیں۔ برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کی جانب سے کی گئی ایک عالمی تحقیق کے مطابق، 2010 سے 2025 کے درمیان میکسیکو، کولمبیا، برازیل، امریکہ اور برطانیہ میں حکومتوں کے خلاف 235 مقدمات دائر کیے گئے۔ ان مقدمات کا بنیادی مقصد جنک فوڈ پر وارننگ لیبل لگانے، ان کی اشتہار کاری پر پابندیاں عائد کرنے اور ٹیکس لگانے کی پالیسیوں کو معطل یا مؤخر کرنا تھا۔

تمباکو کمپنیوں کے پرانے ہتھکنڈے اور 600 سالہ قانونی جنگیں

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دائر کیے گئے تین چوتھائی مقدمات ان ہی فوڈ جاینٹس یا ان کی نمائندہ تنظیموں نے دائر کیے، جن میں کوکا کولا، پیپسی کو، مونڈلیز، کیلوگز، ڈینون، اور فیریرو جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ فوڈ کمپنیاں بالکل وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں جو دہائیوں پہلے تمباکو انڈسٹری سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز روکنے کے لیے کرتی تھی۔ اگرچہ حل ہونے والے مقدمات میں سے 75 فیصد میں حکومتوں نے فتح حاصل کی، لیکن ان طویل قانونی جنگوں کا مجموعی دورانیہ 600 سال سے بھی زیادہ بنتا ہے، جس سے نہ صرف حکومتی پالیسیوں میں سالوں کی تاخیر ہوئی بلکہ عوامی خزانے کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

الٹرا پروسیسڈ فوڈز اب برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں عام خوراک کا نصف حصہ بن چکے ہیں، جو موٹاپا، ذیابیطس ٹائپ-2، دل کی بیماریوں اور کینسر کی بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں عدالتوں میں اس لیے سخت جنگ لڑ رہی ہیں کیونکہ وارننگ لیبلز اور ٹیکسز سے ان کی بلین ڈالر سیلز شدید متاثر ہوتی ہے۔ متعدد غریب اور ترقی پذیر ممالک ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مہنگے وکللاء اور قانونی اخراجات کے خوف سے ڈر کر صحت بخش قوانین نافذ کرنے سے کٹرا رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر انسانی صحت کا بحران مزید شدید ہوتا جا رہا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

الٹرا پروسیسڈ فوڈ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا یہ طرزِ عمل ان کے اس کھوکھلے دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ عوامی صحت کی بہتری میں حکومتوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ایک طرف یہ کمپنیاں عوامی سطح پر صحت بخش خوراک کے فروغ کا ڈرامہ رچاتی ہیں اور دوسری طرف عدالتوں کو استعمال کر کے وارننگ لیبلز اور ٹیکسز کو معطل کراتی ہیں۔ تمباکو انڈسٹری کی طرزیات کو اپناتے ہوئے ان کمپنیوں کا اصل مقصد کیسز جیتنا نہیں بلکہ کیسز کو سالوں طول دینا ہے تاکہ عوام ان کی غیر صحت بخش مصنوعات استعمال کرتے رہیں اور ان کا منافع برقرار رہے۔ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ کمپنیوں کے ان قانونی دباؤ اور بلیک میلنگ سے خوفزدہ ہوئے بغیر عوام، بالخصوص بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے سخت قوانین فوری طور پر نافذ کریں۔


⬇️ Click to Read this Investigation in English

Exposed: Ultra-Processed Food Giants Sue Governments to Obstruct Health Regulations


LONDON: A groundbreaking global investigation by The Guardian and media partners has revealed that the world's biggest ultra-processed food (UPF) corporations filed 235 lawsuits against governments between 2010 and 2025. These lawsuits aimed to delay, weaken, or block public health measures such as front-of-pack warning labels, junk food taxes, and advertising bans targeted at protecting children.

Adopting Big Tobacco's Legal Playbook

Top multinational giants—including Coca-Cola, PepsiCo, Danone, Mondelēz, and Ferrero—were identified behind nearly 38% of the corporate-led cases. Health experts noted that food corporations are mimicking Big Tobacco tactics, utilizing complex litigation to tie up regulators in legal battles that cumulatively spanned 600 years in court. While governments won 75% of resolved cases, the resulting delays continue to fuel rising rates of obesity, diabetes, and heart diseases globally.

Comments