لبنان اور اسرائیل میں بڑی پیش رفت! امریکی نگرانی میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور مذاکرات کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی اور لبنانی حکام کے مطابق، امریکہ

Lebanese and UN military vehicles near the southern border indicating security transition and troop withdrawal
جنوبی لبنان کے مخصوص علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کی براہِ راست نگرانی کرے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ ہفتے باقاعدہ مذاکرات کا نیا دور بھی شروع ہونے جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، جنوبی لبنان میں قائم کیے گئے پائلٹ زونز سے اسرائیلی فوج کی واپسی آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گی جس کی نگرانی امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کرے گی۔

پائلٹ زونز پر لبنانی فوج کا کنٹرول اور 26 جون کا فریم ورک معاہدہ

اس سے قبل لبنان نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ جب تک اسرائیلی فوج ان کی سرزمین سے واپس نہیں جاتی، وہ کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اب انخلا کی یقین دہانی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ 26 جون کو طے پانے والے تاریخی فریم ورک معاہدے کے تحت، اسرائیل نے ان تمام جنوبی علاقوں سے مرحلہ وار پسپائی پر اتفاق کیا ہے جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف آپریشنز کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے نکلتے ہی لبنانی فوج ان دو مخصوص پائلٹ زونز کا مکمل سیکیورٹی اور انتظامی کنٹرول سنبھال لے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ان علاقوں میں لبنانی حکومت کی مکمل رٹ قائم کرنے کے لیے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی قریبی رابطے میں ہے تاکہ بیروت کے سرکاری ادارے وہاں سیکیورٹی اور بلدیاتی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ تاحال اسرائیل یا لبنانی حکومت کی طرف سے انخلا کے حتمی ٹائم فریم اور آئندہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تفصیلی ایجنڈے کا باقاعدہ اعلان ہونا باقی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: امریکی سیکیورٹی گارنٹی اور بیروت کی کمزور رِٹ کا امتحان

یہ معاہدہ عارضی جنگ بندی کے بجائے پائیدار امن کے قیام کا ایک سنہری موقع بن سکتا ہے، بشرطیکہ فریقین اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ امریکہ کا اس انخلا میں ضامن (Guarantor) بننا اور سینٹرل کمانڈ کا نگرانی کرنا اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور رکھے گا۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج لبنانی فوج کا ہو گا، جس کی مالی اور عسکری پوزیشن کافی عرصے سے کمزور ہے۔ کیا لبنانی حکومت جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے بغیر تنہا اپنی خودمختاری قائم رکھ سکے گی؟ اگر بیروت انتظامیہ پائلٹ زونز کو سنبھالنے میں ناکام رہی، تو سرحدی جھڑپیں اور اسرائیل کی دوبارہ دراندازی کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔

ماضی کے سرحدی تنازعات اور اقوامِ متحدہ کے معاہدے:

اسرائیل اور لبنان کی سرحد (بلیو لائن) پر امن قائم کرنے کی ماضی کی کوششوں کا پسِ منظر درج ذیل ہے:

  • اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 (سال 2006): سال 2006 کی جنگ کے بعد منظور ہونے والی اس قرارداد کے تحت دریائے لیطانی کے جنوب میں صرف لبنانی فوج اور یو این پیس کیپرز (UNIFIL) کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، جس پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا۔
  • بحری حدود کا تاریخی معاہدہ (2022): امریکہ کی ہی ثالثی میں دونوں ممالک نے گیس کے ذخائر سے مالامال سمندری حدود کا ایک کامیاب سرحدی معاہدہ کیا تھا، جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ زمینی تنازعات بھی حل ہو سکتے ہیں۔
  • 26 جون کا حالیہ فریم ورک (2026): رواں سال امریکی سفارت کاری کے نتیجے میں یہ نیا فریم ورک طے پایا، جس کا مقصد زمینی سرحد پر بفر زون بنا کر بے گھر ہونے والے ہزاروں اسرائیلی اور لبنانی شہریوں کو ان کے گھروں کو واپس لانا ہے۔

اگرچہ یہ معاہدہ ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی ابتر صورتحال میں کسی بھی وقت کوئی چھوٹی سی غلطی بھی اس نازک امن عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Middle East Story in English

US to Oversee Israeli Military Withdrawal from South Lebanon; Talks Set to Resume


BEIRUT: In a major diplomatic breakthrough, the United States will supervise the phased withdrawal of Israeli forces from designated "pilot zones" in Southern Lebanon, according to US and Lebanese officials. The operation, expected to begin within days, will be closely monitored by the US Central Command (CENTCOM).

Restoring Lebanese State Authority

The withdrawal is part of a framework agreement reached on June 26, enabling the Lebanese Army to take full security control of the vacated border regions. Lebanon had previously refused to join bilateral peace talks until Israeli soldiers retreated. With the withdrawal set to commence, both nations are scheduled to resume formal negotiations next week in an effort to defuse long-standing border tensions.

Comments