سیٹلائٹ سسٹم کی معطلی اور چینی کوسٹ گارڈ کا سخت ترین انتباہ
فلپائنی کوسٹ گارڈ کے ترجمان کے مطابق، چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز نے فلپائنی بحری جہاز 'BRP Datu Paduhinog' کے محض 7 میٹر کے فاصلے تک آ کر واٹر کینن کا شدید بلاسٹ کیا، جس کی وجہ سے فلپائنی جہاز کا سیٹلائٹ کنیکشن اور مواصلاتی نظام عارضی طور پر منقطع ہو گیا۔ اس کے علاوہ دو دیگر فلپائنی جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف، چینی کوسٹ گارڈ کے ترجمان جیانگ لو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلپائنی جہازوں کو زبردستی پیچھے دھکیلنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ چین نے فلپائن کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی فوری بند کرے ورنہ پیدا ہونے والے تمام تر نتائج کی ذمہ داری فلپائن پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں 'سیکنڈ تھامس شول' کے قریب ہونے والے ایک اور تصادم میں فلپائنی جاہز کا ایک اہلکار چینی اہلکاروں کی مبینہ لاٹھی چارج سے شدید زخمی ہوا تھا، جسے ہنگامی طور پر ریسکیو کرنا پڑا۔ چین جنوبی چین کے سمندر کے بیشتر حصے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، حالانکہ عالمی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی قوانین اس دعوے کو منسوخ کر چکے ہیں۔ تاہم، دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جاری کشیدگی کے باوجود رواں سال کے آخر تک 'کوڈ آف کنڈکٹ' مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
تبصرہ و تجزیہ
جنوبی چین کے سمندر میں چینی اور فلپائنی بحری جہازوں کا بار بار آمنے سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خطہ ایک بڑے عالمی تصادم کا مرکز بن سکتا ہے۔ چین اس اہم سمندری تجارتی راستے پر اپنا مکمل کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ فلپائن امریکی اور عالمی برادری کی حمایت کے ساتھ چین کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ایک ہی ہفتے میں واٹر کینن کے استعمال اور اہلکاروں کے زخمی ہونے جیسے مسلسل واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ محض زبانی سفارت کاری سے یہ تنازع حل نہیں ہوگا۔ اگر دونوں ممالک نے 'کوڈ آف کنڈکٹ' پر جلد عمل درآمد نہ کیا، تو ذرا سی غلط فہمی یا حادثہ ایک بڑے علاقائی جنگی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment