امریکی اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کا بڑا حملہ اور کھلی دھمکی
میدانِ جنگ میں حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور ایرانی فوج نے کویت میں امریکی عسکری اڈوں علی السالم، کیمپ عدیری اور عارفجان پر 'آرش' ڈرونز کے ذریعے بڑے حملے کیے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ڈرون حملوں میں امریکی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سائٹس اور آلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات اور بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ملٹری کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب سے یہ باقاعدہ فیلڈ پالیسی ہے کہ ہر ایک ایرانی شہری کے نقصان کے بدلے ایک امریکی اہلکار کو ہدف بنایا جائے گا۔
IRGC Destroys US Ammunition Depot in Kuwait
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) July 24, 2026
The IRGC destroyed a large US ammunition depot and several accommodation facilities at Ali Al-Salem Air Base in Kuwait, saying the attack inflicted casualties and heavy damage on American forces.https://t.co/mypdlejmQV pic.twitter.com/jBwG1d9Vo9
دوسری جانب امریکی حملوں میں ایران کے صوبہ خوزستان اور دیگر علاقوں میں 55 ہلاکتیں اور 645 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی باغیوں کے حملوں کا ملبہ ایران پر ڈالتے ہوئے سخت ترین جواب اور "بڑی ملٹری سزا" دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں $100 فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہیں۔ عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہونے پر اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 6 ہزار سے زائد بحری ملوانوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس بحری گزرگاہ سے روزانہ گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر صرف ایک رہ گئی ہے۔
https://x.com/FMofOman/status/2080581507949719860?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2080581507949719860%7Ctwgr%5E071a00c0ee2b8d57866bbfc696951a23815be26b%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Ftribune.com.pk%2Fstory%2F2619950%2Firanian-fm-warns-using-irans-frozen-assets-sets-incendiary-precedent
تبصرہ و تجزیہ
آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے اب یہ تصادم صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاشی تباہی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانا اور سپلائی چین کا رکنا امریکی معیشت اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑا سیاسی امتحان بن چکا ہے، جس کا عکس امریکی کانگریس کی جانب سے ملٹری ایکشن روکنے کی قراردادوں کی شکل میں بھی نظر آ رہا ہے۔ ایران کا عارضی جنگ بندی سے انکار اور خطے میں قائم امریکی اڈوں پر براہِ راست ڈرون و میزائل حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تہران اب طویل مدتی جنگی حکمتِ عملی اپنا چکا ہے۔ جب تک بحری گزرگاہوں اور پابندیوں کے مسئلے کا دائمی حل نہیں نکالا جاتا، تب تک اس جنگ کے بادل پورے مشرقِ وسطیٰ کو شدید لپیٹ میں رکھیں گے۔

Comments
Post a Comment