امریکی پابندیاں، قطری جہاز پر حملہ اور نیٹو سربراہ کا مؤقف
اس نئی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں ایران کو دی جانے والی عارضی تیل کی فروخت کی رعایت منسوخ کر دی، جس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں قطر کا ایل این جی (LNG) بحری جہاز بھی شامل تھا، جس پر قطر نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انقرہ میں جاری نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے امریکی حملوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد امریکہ کا یہ فوجی ایکشن "نہایت ضروری" تھا۔
اجلاس کے لیے ترکیہ پہنچنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ارکان پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے سخت دباؤ ڈالا، جس کے جواب میں نیٹو نے 50 ارب ڈالرز کے نئے دفاعی سودوں کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں (CAATSA) ختم کرنے اور اسے ایف-35 فائٹر جیٹ پروگرام میں واپس لینے کا اشارہ بھی دیا۔ دوسری طرف، انہوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کو ایران کے خلاف ناکافی تعاون فراہم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں دینے کا پرانا مطالبہ دہرا کر ڈنمارک کے ساتھ نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دھمکیاں بند نہیں ہوتیں، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
تبصرہ و تجزیہ: عالمی توانائی بحران اور تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ
اس پوری فوجی اور سیاسی صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی رعایت ختم کرنا اور ایران کا جوابی جارحانہ رخ یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی عبوری معاہدہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو براہِ راست نشانہ بنانا اور امریکی ایم کیو-9 (MQ9) ڈرون گرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اب کھلی جنگ کے لیے تیار ہے۔ اگر نیٹو ممالک اور امریکہ نے طاقت کے استعمال کی پالیسی جاری رکھی، تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی، جس کا خمیازہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بدترین مہنگائی کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔

Comments
Post a Comment