مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ختم! امریکہ اور ایران میں شدید فضائی و میزائل معرکہ، نیٹو کا بڑا اعلان

Military fighter jets and missile trails representing the military escalation between the US and Iran
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک بار پھر بھیانک جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں بدھ کی علی الصبح ایران پر زوردار فضائی حملوں کا آغاز کر دیا۔ امریکی کارروائی کے فوراً بعد ردِعمل دیتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کر دیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

امریکی پابندیاں، قطری جہاز پر حملہ اور نیٹو سربراہ کا مؤقف

اس نئی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں ایران کو دی جانے والی عارضی تیل کی فروخت کی رعایت منسوخ کر دی، جس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں قطر کا ایل این جی (LNG) بحری جہاز بھی شامل تھا، جس پر قطر نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انقرہ میں جاری نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے امریکی حملوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد امریکہ کا یہ فوجی ایکشن "نہایت ضروری" تھا۔

اجلاس کے لیے ترکیہ پہنچنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ارکان پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے سخت دباؤ ڈالا، جس کے جواب میں نیٹو نے 50 ارب ڈالرز کے نئے دفاعی سودوں کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں (CAATSA) ختم کرنے اور اسے ایف-35 فائٹر جیٹ پروگرام میں واپس لینے کا اشارہ بھی دیا۔ دوسری طرف، انہوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کو ایران کے خلاف ناکافی تعاون فراہم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں دینے کا پرانا مطالبہ دہرا کر ڈنمارک کے ساتھ نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دھمکیاں بند نہیں ہوتیں، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔

تبصرہ و تجزیہ: عالمی توانائی بحران اور تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ

اس پوری فوجی اور سیاسی صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی رعایت ختم کرنا اور ایران کا جوابی جارحانہ رخ یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی عبوری معاہدہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو براہِ راست نشانہ بنانا اور امریکی ایم کیو-9 (MQ9) ڈرون گرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اب کھلی جنگ کے لیے تیار ہے۔ اگر نیٹو ممالک اور امریکہ نے طاقت کے استعمال کی پالیسی جاری رکھی، تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی، جس کا خمیازہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بدترین مہنگائی کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔


⬇️ Click to Read this Global Conflict Story in English

Ceasefire Shattered: US Launches Strikes on Iran; IRGC Retaliates on US Bases in Bahrain and Kuwait


ANKARA: A fragile US-Iran ceasefire agreement collapsed entirely on Wednesday as US Central Command launched heavy air strikes against Iranian targets following missile attacks on commercial tankers in the Strait of Hormuz. In a lightning fast escalation, Iran’s Revolutionary Guards (IRGC) retaliated by launching joint drone and missile strikes against strategic US military facilities in Bahrain and Kuwait, while also claiming to have shot down an American MQ-9 Reaper drone.

NATO Chief Defends US Action as Trump Demands Higher Spending

At a tense NATO leaders' summit in Ankara, Secretary General Mark Rutte strongly defended the US intervention, calling it "absolutely necessary" in response to Iranian violations. US President Donald Trump used the summit to pressure European allies for greater military budgets while simultaneously announcing the lifting of CAATSA sanctions on Turkiye. Meanwhile, Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi warned that final diplomatic talks would remain frozen as long as Washington's military threats continued.

Comments