ملزمان کی گرفتاریاں، برآمدگی اور سیاسی طوفان
اگرچہ ٹرسٹ کی جانب سے چوری ہونے والی رقم کی اصل مالیت کو صیغہ راز میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اس اسکینڈل میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کے قبضے سے اب تک تقریباً 80 لاکھ بھارتی روپے (8 ملین روپے) برآمد کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال 31 مارچ تک اس مندر کو عوامی سطح پر 5.82 ارب روپے (تقریباً 61 ملین ڈالر) کے ریکارڈ عطیات موصول ہوئے تھے۔ مندر ٹرسٹ کے خزانچی گوبند دیو گیری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے شدید صدمے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس (RSS) نے ہندوں سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے اسے ہندو دھرم کو بدنام کرنے کی مبینہ سازش قرار دیا ہے۔
مندر کی اراضی کا تنازعہ دہائیوں پر محیط رہا ہے، جہاں 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک بڑے ہجوم نے 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا، جس کے بعد ہونے والے ملک گیر فسادات میں 2,000 سے زائد افراد، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ سال 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ زمین ہندو فریق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب اس تازہ ترین مالیاتی اسکینڈل نے ریاست اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اہم ترین انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کو مودی حکومت کے خلاف ایک بڑا سیاسی ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: مذہب کے نام پر سیاست اور مالیاتی کرپشن کا گٹھ جوڑ
جب سیاست اور اقتدار کے لیے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کے نتائج ایسے ہی اخلاقی دیوالیہ پن کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ بی جے پی اور نریندر مودی نے دہائیوں تک رام مندر کے نام پر ووٹ بٹورے اور اقتدار کا راستہ ہموار کیا، لیکن آج اسی مندر کے نام پر آنے والے اندھا دھند فنڈز میں خود ان کے اپنے ہی مقرر کردہ اعلیٰ عہدیداران چوریوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ صرف چند استعفے کافی نہیں، بلکہ اس پورے ٹرسٹ کو فوری تحلیل کر کے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ عقیدت کے نام پر آنے والا عوام کا پیسہ کہاں کہاں ہڑپ کیا گیا ہے۔

Comments
Post a Comment