قیمتوں کے نئے اعدد و شمار اور اوپیک پلس (OPEC+) کا متوقع فیصلہ
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ کروڈ کے فیوچرز 79 سینٹس یا 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 70.78 ڈالرز فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت 84 سینٹس یا 1.2 فیصد گر کر 67.74 ڈالرز فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل تیل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، کے کھلے رہنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بہتات (Oversupply) اور کمپنیوں کے درمیان مارکیٹ شیئر کی مسابقت بڑھ رہی ہے جو قیمتوں کو نیچے دھکیل رہی ہے۔ دوسری طرف، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس (OPEC+) کا اتوار کو اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے، جس میں اگست سے تیل کی پیداواری اہداف میں مزید اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس نئی صورتحال کے بعد مشہور عالمی بینک یو بی ایس (UBS) نے خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اپنی پرانی پیشگوئیوں میں بڑی کٹوتی کر دی ہے۔ بینک نے ستمبر کوارٹر کے لیے برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت میں 25 ڈالرز اور دسمبر کوارٹر کے لیے 10 ڈالرز کی کمی کر دی ہے۔ یو بی ایس کے مطابق سال کی دوسری چھماہی میں تیل کی اوسط قیمت 80 ڈالرز فی بیرل جبکہ 2027 میں یہ اوسط 75 ڈالرز تک گر سکتی ہے۔ قطری حکام نے مزید بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے باعث اب امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا اگلا دور 9 جولائی کے بعد شیڈول کیا جائے گا۔
تبصرہ و تجزیہ: معاشی ریلیف یا سپلائی کا عارضی سکون؟
اس پوری معاشی پیش رفت پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ عالمی معیشت اور مہنگائی سے پسے ہوئے ممالک (جیسے پاکستان) کے لیے ایک عارضی معاشی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔ تیل سستا ہونے سے درآمدی بلوں میں کمی آئے گی، لیکن یو بی ایس بینک کی یہ وارننگ بھی اہم ہے کہ مارکیٹ کو مکمل طور پر معمول پر سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ خلیجِ فارس میں اب بھی آنے والے بحری جہازوں (Inbound Tankers) کی تعداد جانے والے جہازوں سے کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن قائم نہ ہوا تو قیمتیں کسی بھی وقت دوبارہ اوپر کی طرف جا سکتی ہیں۔ اصل انحصار اس بات پر ہوگا کہ اگلا مستقل امن معاہدہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے اتار چڑھاؤ کی ہسٹری:
خام تیل کی قیمتوں کا مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی حالات اور آبنائے ہرمز کے تنازعات سے ہمیشہ کا ایک گہرا تاریخی تعلق رہا ہے:
- آبنائے ہرمز کا بحران (2019): ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کے ٹینکروں پر حملوں کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمتیں اچانک 75 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جس سے عالمی توانائی کا بحران پیدا ہوا تھا۔
- کورونا وبا کا تاریخی زوال (2020): تاریخ میں پہلی بار اپریل 2020 میں عالمی لاک ڈاؤن کی وجہ سے تیل کی طلب صفر ہو گئی تھی اور امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت منفی (-37 ڈالرز) تک گر گئی تھی کیونکہ تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ ختم ہو چکی تھی۔
- روس یوکرین جنگ کا دھماکہ (2022): فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد سپلائی معطل ہونے کے خوف سے خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور برینٹ کروڈ 139 ڈالرز فی بیرل کی تاریخی سطح تک جا پہنچا تھا۔
خام تیل کی قیمتوں میں یہ گراوٹ عالمی اسٹاک مارکیٹس اور مہنگائی کی شرح کو نیچے لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اب دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی نظریں اتوار کو ہونے والے اوپیک پلس کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment