بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد، جو اگست 2024 سے بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی گزار رہی ہیں، کو وطن واپسی پر فوری طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید اسلام نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیشی قانون کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، اور اگر وہ دسمبر میں واپس آ کر عدالت کے سامنے ہتھیار ڈالتی ہیں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سزائے موت، جلاوطنی اور اراکین کو اکٹھا کرنے کی آخری کوشش
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی وار کرائمز کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی (In Absentia) میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا، ان پر 2024 کے دوران طلبہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کا حکم دینے کا جرم ثابت ہوا تھا، جس میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کم و بیش 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم، جلاوطنی کے دوران اپنے پہلے باقاعدہ انٹرویو میں شیخ حسینہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے دیگر مفرور اراکین دسمبر میں رضاکارانہ طور پر وطن واپس آ کر عدالتوں میں گرفتاری دیں گے۔ بنگلہ دیشی حکومت کا ماننا ہے کہ حسینہ واجد کا یہ بیان دراصل مفرور پارٹی رہنماؤں کو دوبارہ متحرک کرنے کی ایک آخری اور ناکام سیاسی چال ہے۔
بنگلہ دیش میں اس وقت وزیرِ اعظم طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہے جو فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی اور ملک کو دو سالہ شدید سیاسی انتشار سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بنگلہ دیش نے باضابطہ طور پر بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی (Extraditation) کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے، جس پر نئی دہلی نے تعمیری تعلقات بڑھانے کے عزم کے ساتھ اس درخواست کا تفصیلی جائزہ لینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: انتقام، انصاف اور بنگلہ دیش کا نیا سیاسی دھارا
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ طویل ترین اور آمرانہ دور کا خاتمہ عوامی انقلاب کے ذریعے ہوا تھا، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیاسی خلیج کو پاٹنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ شیخ حسینہ کا دسمبر میں خود سپردگی کا کارڈ جہاں ان کے حامیوں کو مایوسی سے نکالنے کی کوشش ہے، وہیں طارق رحمان حکومت کے لیے سیکیورٹی کا ایک بڑا امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے سیکیورٹی اور عدالتی نظام کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر عالمی قوانین کے مطابق منصفانہ ٹرائل کا انعقاد کر سکتے ہیں تاکہ ملک کو مزید ہنگاموں اور انتشار سے بچایا جا سکے۔

Comments
Post a Comment