کبریٰ خان کے تاثرات اور مہرین جبار کی ہدایت کاری پر کڑے جملے
اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کردہ ریویو میں ڈاکٹر یونس بٹ نے کہا کہ کبریٰ خان ڈرامے میں ہر قسم کے جذبات کو ایک ہی روایتی انداز میں پیش کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ناظرین کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ منظر میں واقعی رو رہی ہیں یا کوئی اور تاثر دے رہی ہیں۔ انہوں نے اداکارہ کے ڈائیلاگ ڈلیوری (مکالموں کی ادائیگی) کو بھی انتہائی سست قرار دیا، جس کی وجہ سے ڈرامہ غیر ضروری طور پر طویل اور بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر منظر کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے اب سب ٹائٹلز کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔
ڈاکٹر یونس بٹ نے شجاع اسد کی اداکاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پرفارمنس میں بھی شدید یکسانیت ہے اور وہ ہر سین میں تقریباً ایک ہی جیسے چہرے کے تاثرات دیتے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ انہوں نے ڈرامے کی معروف ہدایتکارہ مہرین جبار پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان میں یہ منفرد صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی تیز رفتار اور جاندار کہانی کو اپنی سست ڈائریکشن سے بالکل ٹھنڈا کر دیتی ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: شوبز ریویوز میں پروفیشنل تنقید کی اہمیت
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ڈاکٹر یونس بٹ جیسے سینئر پبلک فگر اور لکھاری کی جانب سے آنے والا یہ ریویو ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک اہم آئینہ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر شوبز اسٹارز کی صرف تعریفیں کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے اداکاری کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ کبریٰ خان بلاشبہ ایک بہترین اور مقبول اداکارہ ہیں، لیکن "ڈاکٹر بہو" جیسے سنجیدہ موضوع پر بننے والے ڈراموں میں اگر کردار نگاری جاندار نہ ہو تو ناظرین اکتا جاتے ہیں۔ مہرین جبار کا اپنا ایک مخصوص سنجیدہ آرٹسٹک اسٹائل ہے، مگر آج کل کے تیز رفتار دور میں ناظرین کو ڈرامے میں سسپنس اور اسپیڈ پسند ہے۔ ایسی تعمیری تنقید اداکاروں کو اپنے کام کو مزید بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

Comments
Post a Comment