ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کا اثر! ویتنام میں فیک لگژری برانڈز کی بلیک مارکیٹ پر اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن
امریکی دباؤ اور 1.14 ملین ڈالر کے فیک نیٹ ورک کا خاتمہ
امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کی رپورٹ میں ویتنام کو 13 سالوں میں پہلی بار "ترجیحی غیر ملکی ملک" (Priority Foreign Country) کا درجہ دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر ویتنام نے برانڈز کی نقل بنانا بند نہ کیا تو امریکہ اس پر بھاری تجارتی ڈیوٹیز اور ٹیرف لگا دے گا۔ اسی خوف کے پیشِ نظر ویتنامی پولیس نے کارروائیوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں تھان ہوا (Thanh Hoa) صوبے میں ایک بڑے گینگ کو گرفتار کیا گیا جو کارٹئیر، لوئی ویٹون اور ٹفنی جیسے برانڈز کے 10 ہزار سے زائد جعلی زیورات بنا کر 1.14 ملین ڈالر کا غیر قانونی منافع کما چکا تھا۔
ویتنام میں یہ فیک انڈسٹری اس لیے پھل پھول رہی ہے کیونکہ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں جہاں سے یہ خام مال اور فیک ڈیزائنز بڑی تعداد میں امپورٹ ہوتے ہیں۔ مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ 900 ڈالر کا ڈیزائنر جوتا صرف 30 ڈالر میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کو بیچتے ہیں۔ اگرچہ پولیس مارکیٹوں پر چھاپے مار کر ہزاروں ڈالرز کے جرمانے کر رہی ہے، لیکن دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے آنے سے پہلے ہی اپنا مال چھپا لیتے ہیں اور یہ کاروبار اتنی آسانی سے بند ہونے والا نہیں ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: مہنگائی کا کڑوا سچ اور برانڈز کی ہوس کا پوسٹ مارٹم
فیک برانڈز کی مارکیٹ برانڈز کی قیمتوں کے آسمان سے باتیں کرنے اور غریب و متوسط طبقے کی معاشی حقیقتوں کا نتیجہ ہے۔ ویتنام کی 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں اوسط ماہانہ آمدنی محض 225 ڈالر ہے۔ ایک عام انسان کے لیے ہزاروں ڈالرز کا اصلی برانڈ خریدنا ناممکن ہے، اس لیے وہ 15 یا 20 ڈالر کی فرسٹ کاپی خرید کر خوش ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فیک پروڈکٹ خریدنے والا کسٹمر کبھی بھی اصلی لگژری برانڈ کا گاہک نہیں بن سکتا، اس لیے انٹرنیشنل برانڈز کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انہیں نقصان ہو رہا ہے۔ حکومتیں اگرچہ امریکی دباؤ میں آ کر غریب ریٹیلرز کے پیٹ پر لات مار رہی ہیں، لیکن جب تک مارکیٹ میں سستے سامان کی طلب (Demand) موجود ہے، سپلائی کو دنیا کا کوئی قانون مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔

Comments
Post a Comment