بی بی سی پینوراما کی انکوائری اور میٹروپولیٹن پولیس کا ایکشن
اس ہولناک اسکینڈل کا بھانڈا اس وقت پھوٹا تھا جب بی بی سی پینوراما کی ایک تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آئی تھی۔ اس رپورٹ میں دو خاتون شرکاء نے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ شو کے دوران ان کے آن لائن "ٹی وی شوہروں" نے ان کا ریپ کیا۔ ایک تیسری خاتون نے بھی اپنے آن لائن پارٹنر پر سنگین جنسی حملے کا الزام عائد کیا۔ اس دستاویزی فلم کے نشر ہوتے ہی مئی میں لندن پولیس نے ایک عوامی اپیل جاری کی تھی کہ شو کے دوران جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی دیگر خواتین بھی بلا خوف و خطر سامنے آئیں، جس کے بعد کئی سابقہ شرکاء نے پولیس سے رابطہ کیا۔
اس شدید بحران کے بعد شو نشر کرنے والے برطانوی "چینل 4" کی چیف ایگزیکٹو پریا ڈوگرا نے متاثرہ خواتین سے دلی معذرت کا اظہار کیا ہے۔ براڈکاسٹر نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دو اعلیٰ سطحی بیرونی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ پہلی انکوائری اس بات کی جانچ کرے گی کہ ماضی میں خواتین کی شکایات کو کیوں دبایا گیا، جبکہ دوسری انکوائری مستقبل میں شرکاء کے تحفظ (Safeguarding) کے لیے سخت قوانین وضع کرے گی۔ دوسری طرف شو بنانے والی پروڈکشن کمپنی (CPL) کے وکیلوں کا اب بھی دعویٰ ہے کہ ان کا سیفٹی سسٹم "گولڈ اسٹینڈرڈ" کا تھا اور کسی بھی ملازم یا اداکار پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جاتا تھا۔
تبصرہ و تجزیہ: رئیلٹی ٹی وی کا کالا سچ اور گلیمر کی آڑ میں جرائم
اس افسوسناک اور شرمناک واقعے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ رئیلٹی شوز کے نام پر اجنبیوں کی شادیاں کروانا اور انہیں زبردستی کیمروں کے سامنے ایک ساتھ لائیو رکھنا اب ایک کاروباری جرم بن چکا ہے۔ پروڈکشن کمپنیاں ڈالرز اور ریٹنگ کی ہوس میں نہ تو اداکاروں کا کریمنل بیک گراؤنڈ چیک کرتی ہیں اور نہ ہی سیٹ پر موجود خواتین کو تحفظ فراہم کر پاتی ہیں۔ برطانوی پولیس کی یہ باقاعدہ گرفتاری یہ ثابت کرتی ہے کہ گلیمر کی چمک دمک کے پیچھے معصوم خواتین کی زندگیوں کو کس بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔ جب تک ایسے پروڈیوسرز اور مجرموں کو کڑی سزائیں نہیں ملتیں، رئیلٹی شوز کے نام پر یہ دھندا بند نہیں ہوگا۔
برطانوی میڈیا اور شوز کے دیگر بڑے اسکینڈلز کی ہسٹری:
برطانیہ کی میڈیا انڈسٹری میں ریٹنگ کی دوڑ اور سیکیورٹی کی ناکامی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی ہولناک اسکینڈلز سامنے آ چکے ہیں:
- جمی سیول اسکینڈل (Jimmy Savile): بی بی سی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسٹرائیکر اور ہوسٹ، جس کی موت کے بعد انکشاف ہوا کہ اس نے کئی دہائیوں تک میڈیا ہاؤسز کی چھتری تلے سینکڑوں بچوں اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
- دی جیرمی کائل شو (The Jeremy Kyle Show): 2019 میں اس مشہور ٹاک شو کو اس وقت ہمیشہ کے لیے بند کرنا پڑا جب ایک غریب شریک نے شو کے دوران جھوٹ پکڑنے والی مشین (Lie Detector) کے متنازع نتیجے اور شدید ذہنی ٹرولنگ کے باعث خودکشی کر لی تھی۔
- لو آئی لینڈ سیفٹی ریویو (Love Island): اس رئیلٹی شو میں بھی شرکاء کے شدید ذہنی تناؤ، باہمی لڑائیوں اور پروڈکشن ٹیم کے دباؤ کے باعث پے درپے خودکشیوں کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کو رئیلٹی شوز کے قوانین کا کڑا جائزہ لینا پڑا تھا۔
رئیلٹی شو کے اسٹار کی اس گرفتاری نے پورے برطانوی میڈیا میں تھرلی مچا دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس کی یہ انکوائری اس شو کے کتنے مزید چہرے بے نقاب کرتی ہے اور کیا چینل 4 اس شو کو مستقل طور پر بند کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کرے گا یا نہیں۔

Comments
Post a Comment