اسحاق ڈار کا واشنگٹن سے دوٹوک بیان: فلسطین کو تسلیم کرنے تک ابراہیمی معاہدے پر کوئی لچک نہیں دکھائیں گے
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ابراہیمی معاہدے (Abraham Accords) کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی کھل کر وضاحت کر دی ہے۔ انہوں نے ان تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا جو پاکستان کے اس معاہدے میں شامل ہونے کے حوالے سے گردش کر رہی تھیں۔ وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے تاریخی اور اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہے، اور جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ابراہیمی معاہدے پر کسی قسم کی لچک دکھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Read Also: https://dailyhaleef.blogspot.com/2026/05/blog-post_7240.html
امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار
اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں سفارتی ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن کا معمار ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو تقریباً 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے اور ان کے درمیان ابتدائی رابطے بحال کروانے میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی اس امن پسند سفارت کاری کی بدولت ملک کو عالمی برادری میں ایک نئی اور معتبر شناخت ملی ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی تمام تر سازشیں اور کوششیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔
امریکی دورے کے دوران وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے بھی ایک خوشگوار ماحول میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستانی سفیر اور دفترِ خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Read Also: https://dailyhaleef.blogspot.com/2026/05/blog-post_614.html
فلسطین اور کشمیر پر اصولی مؤقف
عالمی فورمز پر پاکستان کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے دیرینہ مسائل پر پاکستان کے بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ (UN) کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اور صرف دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دینے سے ہی ممکن ہے، اور پاکستان ان دونوں مظلوم اقوام کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
واشنگٹن کی سرزمیں سے آنے والا وزیرِ خارجہ کا یہ دوٹوک بیان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے معاملے پر اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر سودے بازی نہیں کرے گا۔

Comments
Post a Comment