ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ بظاہر جنگ بندی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ تنازع ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔ اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک نے کھلے عام اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ دوبارہ مکمل جنگ کی طرف نہیں لوٹنا چاہتے، مگر اس کے باوجود فوجی تناؤ بدستور برقرار ہے اور خلیج کے پانیوں میں غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔
پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، لیکن دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی سے دستبردار نہیں ہوئے۔ امریکہ نے ایران کے قریب اپنی بحری اور فضائی قوت برقرار رکھی ہوئی ہے تاکہ تہران کو رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے، جبکہ ایران بھی مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ضرورت پڑنے پر امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی معیشت پر اثرات
جنگ بندی کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں سے جزوی طور پر تیل کی ترسیل جاری رکھی ہے، لیکن دنیا اب بھی تیل اور گیس کی اپنی معمول کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے سے محروم ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اسی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے لیے آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا سیاسی اور معاشی دونوں اعتبار سے ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس کے بدلے بھاری قیمت طلب کر سکتا ہے، جس میں معاشی پابندیوں میں نرمی یا منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔ ایسی کسی رعایت کو ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن جماعت کے سخت گیر حلقے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی عوامی رائے اور خلیجی ممالک کی حکمتِ عملی
ٹرمپ کی مشکلات کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی عوام میں مقبول نہیں رہی۔ ابتدائی طور پر یہ تصور کیا گیا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی طاقت ایران کی اسلامی حکومت کو جلد کمزور یا ختم کر دے گی، مگر یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ ایرانی قیادت نے نہ صرف مزاحمت جاری رکھی بلکہ یہ تاثر بھی دیا کہ وہ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے اور کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
اس تنازع نے خلیجی عرب ریاستوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک گزشتہ کئی برسوں سے اپنے خطے کو عالمی سرمایہ کاری اور کاروبار کا محفوظ مرکز بنانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن جنگ نے ان منصوبوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور خطے کے استحکام کے بارے میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
قطر اور پاکستان مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک نے مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف بعض کارروائیاں کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اتحاد کا باضابطہ حصہ نہیں۔
حاصل کلام اور بڑا سبق
موجودہ صورتحال کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی اور اسرائیلی قیادت کے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بینجمن نیتن یاہو نے یہ سمجھا تھا کہ فوجی طاقت کے ذریعے تہران کی حکومت کو آسانی سے جھکایا جا سکتا ہے، لیکن تقریباً نصف صدی سے جنگوں، پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا کرنے والی ایرانی قیادت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ سخت دباؤ میں بھی اپنی بقا کی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آج امریکہ، اسرائیل اور پورا خطہ اسی غلط اندازے کے نتائج بھگت رہا ہے۔ جنگ اگرچہ وقتی طور پر رکی ہوئی ہے، لیکن اس کے سیاسی، معاشی اور سفارتی اثرات ابھی طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا فریقین اتنا اعتماد پیدا کر سکیں گے کہ ایک پائیدار سیاسی حل کی طرف بڑھ سکیں۔

Comments
Post a Comment